Tuesday, June 22, 2021  | 11 ZUL-QAADAH, 1442

شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا

SAMAA | - Posted: Apr 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Shaukat-Tareen_

فائل فوٹو

وفاقی حکومت نے حماد اظہر سے وزارت خزانہ کا قلمندان واپس لے کر شوکت ترین کو وزیر خزانہ بنا دیا۔

وزیر خزانہ کے عہدے سے فارغ ہونے والے حماد اظہر کو وزیر توانائی کا قلمدان دے دیا گیا جبکہ عمر ايوب اقتصادی امور اور خسرو بختیار کو وزارت صنعت و پیداوار دے دی گئی۔

گزشتہ روز وفاقی کابینہ نے فواد چوہدری کو دوسری مرتبہ وزیر اطلاعات و نشریات مقرر کیا تھا جبکہ شبلی فراز کو وزير سائنس و ٹيکنالوجی کا قلمدان سونپا گیا۔

شوکت ترین وزیراعظم کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے مممبر بھی تھے جبکہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ رہے ہیں۔

جیو نیوز کے مطابق شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ براہ راست کام کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن انہوں نے کچھ مصروفیت کے باعث 15 سے 20 روز کا وقت مانگا ہے۔

حفیظ شیخ فارغ، حماداظہر کو وزیرخزانہ بنادیا گیا، شبلی فراز

تین ہفتہ قبل 29 مارچ کو حکومت نے حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹا کر حماد اظہر کو وزارت خزانہ کی ذمہ داری سونپی تھی۔

واضح رہے کہ وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو 6 ماہ کیلئے وزیر خزانہ بنایا گیا تھا تاہم وہ 3 مارچ کو ہونیوالے سینیٹ انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی سے شکست کھا گئے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈاکٹر حفیظ شیخ کو اسد عمر کی جگہ وزارت خزانہ کا قلمدان دیا گیا تھا۔

وزیر خزانہ کی تبدیلی ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حکومت کو آئی ایم ایف سے دو ہفتہ قبل 50کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے جمعرات 25 مارچ کو منظوری دی تھی جبکہ 6 ارب ڈالر کے قرض میں سے اب تک ایک ارب 95 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔

شوکت ترین کون ہیں؟

نئے وزیر خزانہ شوکت ترین پیشے کے لحاظ سے ایک بینکر ہیں اور 1997 میں حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر رہ چکے ہیں۔ سال 2000 میں انہوں نے یونین بینک قائم کیا جسے بعد اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کو فروخت کر دیا گیا۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں شوکت ترین سینیٹر اور وفاقی وزیر خزانہ بنے۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے دور حکومت میں شوکت ترین سینیٹر اور وفاقی وزیر خزانہ بنے۔ پیپلزپارٹی دور میں انہوں نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آوٹ پروگرام پر دستخط کیے اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا اختتام کیا۔

بہرحال، اپنا ذاتی ”سلک بینک” کو چلانے کے لیے انہوں نے وزیر خزانہ کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube