پاکستان میں سوشل میڈیا سائٹس جزوی طور پر بحال

SAMAA | - Posted: Apr 16, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 16, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
Social Media afp

فوٹو: اے ایف پی

پاکستان بھر میں عارضی طور پر بند کی گئیں سوشل میڈیا سائٹس عارضی طور پر بحال ہونا شروع ہوگئیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) کی جانب سے پاکستان بھر سوشل میڈیا کی مختلف موبائل ایپس کو بند کیا گیا تھا۔ بند کی گئی موبائل فون ایپس میں واٹس ایپ، یو ٹیوب، ٹوئٹر، فیس بک اور ٹیلی گرام شامل تھیں۔

پی ٹی اے نے باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امن و عامہ برقرار رکھنے اور عوام کے تحفظ کے لیے چند سوشل میڈیا ایپلی کیشنز تک رسائی پر عارضی پابندی لگائی گئی ہے۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس کو وزارت داخلہ کی ہدایت پر 4گھنٹے کیلئے بند کیا گیا۔ فیس بک، ٹوئٹر، ٹک ٹاک سمیت دیگر ایپس آج شام 3 بجے تک بند رہیں گی۔ پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ عارضی بندش کے دوران سوشل میڈیا پر موجود احتجاج اور دھرنوں سے متعلق مواد ہٹایا جائے گا۔

اگرچہ وزارت داخلہ کے نوٹی فکیشن میں پابندی کی وجہ نہیں بتائی گئی تاہم یہ پیشرفت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ملک میں احتجاج کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے چند روز بعد سامنے آئی ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ پہلے ہی وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر چکی ہے۔

جمعرات 15 اپریل کو پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے جاری کردہ نوٹی فیکیشن کے مطابق تمام ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو کیلئے خصوصی ہدایت نامہ جاری کیا گیا۔ پمرا نے ہدایت کی کہ میڈیا ضابطہ اخلاق کے مطابق کالعدم تظیموں کی میڈیا کوریج کی کسی صورت اجازت نہیں، اور چونکہ تحریک لبیک کو حکومت کی جانب سے کالعم قرار دے دیا گیا ہے، لہذا ٹی وی چینلز اور ایف ایم ریڈیو ٹی ایل پی کی کوریج نہیں کر سکیں گے۔

قبل ذکر بات یہ بھی ہے کہ پاکستان میں مختلف ادوار میں سوشل میڈیا کے استعمال اور مختلف سائٹس پر گاہے بگاہے پابندیاں لگتی رہی ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا کی رسائی پر قدغن لگائی گئی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ معاون خصوصی شہباز گل کی جانب سے گزشتہ روز ایک خط سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا تھا۔ خط سے متعلق شہباز گل نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خط تحریک لبیک پاکستان کے امیر سعد رضوی نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔

ٹوئٹر سے لیا گیا عکس

متعلق خط کی تحریر میں سعد رضوی نے پاکستان بھر میں کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام کارکنان پر امن طور پر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔

اس بیان میں حافظ محمد سعد نے شوریٰ ممبران کے نام پیغام لکھتے ہوئے کہا کہ میں تمام شوریٰ ممبران اور کارکنان تحریک لبیک یا رسول اللہ سے مخاطب ہوں اور یہ اپیل کرتا ہوں کہ ملکی مفاد اور عوام الناس کی خاطر کوئی غیر قانونی قدم نہ اٹھایا جائے۔ حافظ سعد رضوی نے کہا کہ تمام احتجاجی جلسے اور روڈ بلاک فی الفور ختم کیے جائیں، تمام کارکن پر امن طور پر گھروں کو واپس چلے جائیں ، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کیا جائے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ مرکز و مسجد رحمۃ اللعالمین کے باہر بھی احتجاج اور دھرنا فی الفور ختم کر دیا جائے۔

دوسری جانب نیشنل کاؤنٹر ٹیریرئز اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے بھی کالعدم تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کردیا گیا ہے۔ تحریک لبیک کالعدم قرار دی جانے والی 79ویں تنظیم بن گئی ہے۔ کالعدم تنظیم کے خلاف حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن اور پکڑ دھکڑ کا آغاز تنظیم کی جانب سے پر تشدد احتجاج اور دھرنوں کے باعث ہوا۔

پس منظر

تحریک لبیک کی جانب سے گزشتہ سال 2020 میں فرانس میں متنازع خاکوں کی اشاعت کے خلاف راول پنڈی میں فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا، جو بعد ازاں 16 نومبر کو حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ختم ہوا۔

بعد ازاں ٹی ایل پی کی جانب سے حکومت کو دوبارہ رواں سال 16 فروری کو احتجاج کی ڈیڈ لائن دی گئی۔ جس میں 16فروری تک فرانس میں مبینہ طور پر توہینِ مذہب کے معاملے پر پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ شامل تھا، تاہم اس سے قبل ہی 11 جنوری کو دونوں فریقین کے درمیان معاملات طے پا گئے اور معاہدہ ہوا۔ معاہدے میں تحریک لبیک کی نمائندگی کرنے والوں میں غلام غوث، ڈاکٹر محمد شفیق، غلام عباس اور محمد عمیر شامل تھے، جب کہ حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیرِ مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کی تھی۔

ٹی ایل پی کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے رکھا گیا تھا کہ جن رہنماؤں یا کارکنان کے نام فورتھ شیڈول میں ڈالے گئے ہیں، وہ فورتھ شیڈول سے نکالے جائیں گے۔ معاہدے کی شق کے مطابق رواں سال 20 اپریل تک معاہدے کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا اور اِن سب باتوں کا اعلان خود وزیرِ اعظم کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے رواں سال 20 اپریل کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا کہا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود ٹی ایل پی کی جانب سے 20 اپریل کو ملک بھر میں احتجاج اور دھرنوں کا اعلان کردیا گیا۔ حکومت نے مذہبی جماعت سے ایک قدم آگے چلتے ہوئے 12 اپریل کو ہی ٹی ایل پی کے امیر سعد رضوی کو لاہور کے اقبال ٹاؤن میں واقعہ مسجد کے باہر سے حراست میں لیا، جب وہ نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔ٹی ایل پی اور پولیس کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

سعد رضوی کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد لاہور میں کارکنوں بڑی تعداد میں سڑکوں کو پر نکل آئے اور اہم راستے بند کردیئے گئے۔ لاہور سے احتجاج نکل کر پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی پھیلا اور ملک بھر میں کارکنوں نے پولیس اہل کاروں پر حملے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا شروع کردیا۔

کالعدم تنظیم قرار

صورت حال سنگین ہونے پر حکومت حرکت میں آئی اور پاکستان کی وفاقی کابینہ نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر گزشتہ روز 15 اپریل کو پابندی کی منظوری دی۔

فرانس کے شہریوں کو پاکستان چھوڑنے کا مشورہ

فرانس کے خلاف احتجاج میں شدت آنے پر پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے نے تمام فرانسیسی شہریوں کو عارضی طور پر پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق گزشتہ کئی روز سے پاکستان میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے بعد فرانس کے سفارت خانے نے اس بارے میں فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں مقیم فرانس کے شہریوں کو سفارت خانے کی ارسال کی گئی ای میل میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی روانگی دستیاب کمرشل ایئر لائنز کے ذریعے انجام دی جائے گی۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فرانس کا پاکستان میں سفارت خانہ بند نہیں ہوا البتہ محدود عملے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

ٹی ایل پی کیخلاف مقدمات اور کارکنان گرفتار

پنجاب حکومت کی وفاق کو ارسال کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کی ملک کے مختلف شہریوں میں ہنگامہ آرائی اور سڑکوں کی بندش سے معمولات متاثر ہوئے، پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جب کہ 580 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے ٹی ایل پی کے 2063 کارکن گرفتار کیے جب کہ ان کےخلاف 115مقدمات درج کیے گئے۔

تحریک لبیک پاکستان کا قیام

بریلوی مکتبِ فکر کی جماعت ٹی ایل پی کا قیام پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہل کار ممتاز حسین قادری کی رہائی مہم کے دوران عمل میں لایا گیا۔ تاہم باقاعدہ جماعت کے طور پر اس کا اعلان جنوری 2017 میں کراچی کے نشتر پارک کے ایک جلسے میں کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سلمان تاثیر کو جنوری 2011 میں اُن کی اپنی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہل کار ممتاز حسین قادری نے توہینِ مذہب کا الزام لگاتے ہوئے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ بعدازاں 2016 میں ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی تھی۔

سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے پاکستان میں توہینِ مذہب قانون میں تبدیلی پر زور دیتے ہوئے توہین مذہب کے الزام میں جیل میں قید مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کی بھی کوشش کی تھی۔

تحریک لبیک نے مختلف مواقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والے اہم راستے فیض آباد انٹرچینج سمیت ملک کے مختلف شہروں میں دھرنے بھی دیے جس کی وجہ سے ملک میں نظامِ زندگی مفلوج ہوتا رہا۔

خادم حسین رضوی کون تھے؟

ٹی ایل پی کے بانی علامہ خادم حسین رضوی پنجاب کے شہر لاہور میں محکمۂ اوقاف کے زیرِانتظام ایک مسجد کے خطیب تھے لیکن اُن کی جانب سے ممتاز قادری کے اس عمل کی کھل کر حمایت کرنے پر محکمہ اوقاف کی جانب سے انہیں نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔تحریک کے بانی علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ سال انتقال کر گئے تھے۔

نوکری سے نکالے جانے کے بعد نہ صرف خادم حسین رضوی نے پاکستان میں توہینِ مذہب قانون اور آئین کی شق 295 سی کے تحفظ کے لیے تحریک چلائی بلکہ وہ ممتاز قادری کی رہائی کے لیے بھی سرگرم رہے۔

خادم رضوی گزشتہ سال نومبر میں انتقال کر گئے جن کی جگہ ان کے بیٹے سعد رضوی کو جماعت کا سربراہ بنایا گیا۔

سعد رضوی کون ہیں؟

علامہ خادم حسین رضوی کے 26 سالہ صاحبزادے سعد حسین رضوی روز اول سے ہی اپنے والد کیساتھ پارٹی کے امور دیکھ رہے ہیں اور پچھلے کچھ سالوں سے جماعت کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم اپنے والد کی موجودگی میں وہ ہمیشہ ان کے پیچھے ہی رہے لیکن اپنی جماعت کو سوشل میڈیا پر فعال کرنے اور صحافیوں سے روابط قائم کرنے کی ذمہ داری ماضی میں وہی نبھاتے رہے ہیں۔

ان کے قریبی دوست سلمان کے مطابق سعد حسین رضوی اس وقت اپنے والد ہی کے مدرسہ ابو ذر غفاری میں درس نظامی کے درجہ عالیہ کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعد ایک انتہائی سمجھدار اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے نوجوان ہیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ مدرسے کے باقی طالبعلموں کے مقابلے میں سعد دور جدید کے دیگر معاملات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز کو چلانا سیکھا اور اپنے والد کی تقاریر کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچایا‘۔

سلمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اور اس کے ذمہ داران کے فیس بک پر متعدد اکاؤنٹس موجود تھے لیکن دو سال پہلے تک ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان کے دوست کہتے ہیں کہ سعد کو اندازہ تھا کہ ٹوئٹر پر موجود لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں اور وہاں پر تحریک لبیک پاکستان کی موجودگی پارٹی کے حق میں لوگوں کے دل و دماغ میں ایک مثبت رائے بنانے میں مدد دے گی۔

’سعد نے مختلف مدارس کا دورہ کیا اور وہاں ورکشاپس منعقد کئے اور طالبعلموں کو ٹوئٹر استعمال کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں ٹوئٹر پر آپ کو تحریک لبیک پاکستان کے حق میں ٹرینڈز نظر آتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube