Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

حویلیاں طیارہ حادثہ،پی آئی اے کے سابق افسر کےعدالت میں اہم انکشافات

SAMAA | - Posted: Apr 15, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 15, 2021 | Last Updated: 6 months ago

جعلی رپورٹ پیش کی گئی

Sindh-High-Court-1

 

پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس کی تحقیقات میں نیا موڑ آیا ہے اور عدالت میں پی آئی اے کے سابق افسر نے اہم انکشافات کردئیے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ میں پی آئی اے کے سابق ڈپٹی چیف انجینئرخالد ممتاز نے پی آئی اے طیارہ حادثہ کیس کی سرکاری رپورٹ کو چیلنج کردیا ہے۔ انھوں نے دعوی کیا ہے کہ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ جعلی ہے۔ سال 2016 میں حادثے کا شکار طیارہ 2013 سے خراب تھا۔ خالد ممتاز نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے طیارے کی خرابی سے متعلق رپورٹ تیار کی تھی اور متعلقہ حکام کو بھی آگاہ کردیا تھا اور طیارے کی خرابی کی ساری رپورٹ موجود ہے۔

خالد ممتاز نے عدالت میں طیارے سے متعلق ریکارڈ اور اہم دستاویز بھی پیش کی ہیں اور فریق بننے کی استدعا کی ہے۔ پی آئی اے کے سابق افسر نے کہا کہ اگر زیراستعمال تمام اے ٹی آر طیاروں کو گراؤنڈ کرکے تحقیقات نہیں کی گئیں تو مزید ایسے حادثات ہوسکتےہیں۔

عدالت نے اس درخواست پر وفاقی حکومت، پی آئی اے اور سول ایوی ایشن سے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس درخواست کی روشنی میں آئندہ سماعت میں رپورٹ پیش کی جائے اور بتایا جائے کہ اس حوالے سے حکومت ، پی آئی اے اور دیگر فریقین کا کیا موقف ہے۔

پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ چترال سے اسلام آباد آرہا تھا جب دسمبر 2016 میں حویلیاں میں حادثے کا شکار ہوا۔اس طیارہ حادثے میں معروف اسکالر جنید جمشید اور ان کی اہلیہ سمیت 47 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

حویلیاں حادثہ: شہید پائلٹ کی والدہ کے سنسنی خیز انکشافات

یکم دسمبر 2020 کو سندھ ہائی کورٹ میں پی آئی اے کے ٹیکنیکل ڈائریکٹرنے بتایا تھا کہ حادثے کے شکار طیارے میں ٹیکنیکل مسئلہ تھا اوراس حادثے سے سبق سیکھا۔ اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل شہریار مہرنے عدالت کوبتایا تھا کہ آبزرویشن میں پی آئی اے کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

پی آئی اے کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر نےعدالت کو مزید بتایا تھا کہ لیفٹ انجن میں مسئلہ آیا تھا جبکہ رائٹ انجن ٹھیک تھا،ڈیزائن کا مسئلہ تھا اور10 ہزارگھنٹوں کی پروازکی حد ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سوال اٹھایا تھا کہ طیارے کا ٹربائن بلیڈ کیوں تبدیل نہیں کیا گیا؟ڈائریکٹر ٹیکنیکل نے کہا کہ ورکشاپ میں جب طیارہ آیا تواس کےمنٹیننس کی گئی اورمکمل ریکارڈ عدالت میں جمع کرادیا گیا۔

حویلیاں طیارہ حادثے کی 4سال بعد تحقیقیاتی رپورٹ جاری

پی آئی اے حکام نےعدالت کومزید بتایا تھا کہ حادثے کے بعد فوری طور پرتمام اے ٹی آر طیاروں کوگراؤنڈ کردیا تھا۔عدالت نے مزید استفسار کیا کہ کیا بقیہ اے ٹی آر طیاروں کومحفوظ بنایا گیا ہے؟ پی آئی اے کے وکیل نےعدالت کویقین دلایا کہ ہم سیفٹی ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ کی بنیاد پریقین دلارہےہیں کہ تمام حفاظتی اقدامات کرلیےہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube