Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Apr 14, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 14, 2021 | Last Updated: 6 months ago

انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت پابندی لگائی

وفاقی حکومت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ وفاقی کابینہ کو بھجا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ جی ٹی روڈ اور ہائی ویز کو کھول دیا گیا ہے۔ مظاہرین نے ایمبولینز روکیں اور حکومت کو مسائل سے دوچار کیا۔ بدامنی پھیلانے والوں کا قانون پیچھا کر رہا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اسمبلی میں ناموس رسالت کا بل پیش کریں گے لیکن واضح رہے کہ ملک میں ختم نبوت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو آپ چاہتے ہیں اس سے دنیا میں ہمارا تصور انتہا پسندی کا جائے گا۔

سعد رضوی کو حکومت کیخلاف 20 اپریل کو احتجاج کا اعلان کرنے کے ایک روز بعد گرفتار کیا گیا۔

ٹی ایل پی نے فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا جس کے بعد نومبر 2020ء میں پی ٹی آئی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے، جس میں طے پایا تھا کہ پارلیمنٹ میں اتفاق رائے کے بعد پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو بے دخل کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 26 سالہ سعد حسین رضوی کو ان کے والد خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ٹی ایل پی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ سعد رضوی کو سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ ٹی ایل پی کی مجلس شوریٰ نے کیا تھا۔

علامہ طاہر اشرفی 

وزیراعظم کےخصوصی نمائندہ برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ تحریک لبیک کے کارکنان نے پولیس والوں کو یرغمال بنایا، تشدد کرنا املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت درست نہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری80ہزار جانیں قربان ہوئیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ملک میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا، تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے تشدد کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔

تحریک لبیک کس طرح کی جماعت ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کے قیام سے قبل پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندہ دو اور جماعتیں بھی رہی ہیں، پہلی مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور سلیم قادری کی سنی تحریک۔

مذہبی و سیاسی جماعتوں پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی سبوخ سید کے مطابق جمعیت علماء پاکستان اور سنی تحریک بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندگی تو کرتی تھیں لیکن ان دونوں جماعتوں نے کبھی تحریک لبیک پاکستان کی طرح کسی بھی انتخابات میں پاکستان بھر سے اپنے امیدوار نہیں کھڑے کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی پہلی مین اسٹریم پارٹی کہا جاسکتا ہے۔

سبوخ سید کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کو ایک مین اسٹریم پارٹی بنانے کا سہرا علامہ خادم رضوی کے سر جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی تقریباً تمام ہی مذہبی جماعتوں نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو اپنا ’انتخابی نشان‘ بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب صرف تحریک لبیک پاکستان رہی۔

سبوخ سید کہتے ہیں کہ ’علامہ خادم حسین رضوی اپنے چاہنے والوں کیلئے ایک طلسماتی شخصیت تھے اور تقاریر کرتے وقت ان کے مزاج کی سخت گیری انہیں محفلوں میں دوسروں سے نمایاں رکھتی تھی‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علامہ کے صاحبزادے کیلئے اپنے والد والی خصوصیات پر عبور حاصل کرنا ایک مشکل کام ہوگا اور اس میں ناکامی کی صورت میں تحریک لبیک پاکستان اگلے انتخابات میں اپنی حمایت کھوسکتی ہے۔

سعد رضوی کون ہیں؟

علامہ خادم حسین رضوی کے 26 سالہ صاحبزادے سعد حسین رضوی روز اول سے ہی اپنے والد کیساتھ پارٹی کے امور دیکھ رہے ہیں اور پچھلے کچھ سالوں سے جماعت کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم اپنے والد کی موجودگی میں وہ ہمیشہ ان کے پیچھے ہی رہے لیکن اپنی جماعت کو سوشل میڈیا پر فعال کرنے اور صحافیوں سے روابط قائم کرنے کی ذمہ داری ماضی میں وہی نبھاتے رہے ہیں۔

ان کے قریبی دوست سلمان کے مطابق سعد حسین رضوی اس وقت اپنے والد ہی کے مدرسہ ابو ذر غفاری میں درس نظامی کے درجہ عالیہ کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعد ایک انتہائی سمجھدار اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے نوجوان ہیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ مدرسے کے باقی طالبعلموں کے مقابلے میں سعد دور جدید کے دیگر معاملات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز کو چلانا سیکھا اور اپنے والد کی تقاریر کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچایا‘۔

سلمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اور اس کے ذمہ داران کے فیس بک پر متعدد اکاؤنٹس موجود تھے لیکن دو سال پہلے تک ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان کے دوست کہتے ہیں کہ سعد کو اندازہ تھا کہ ٹوئٹر پر موجود لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں اور وہاں پر تحریک لبیک پاکستان کی موجودگی پارٹی کے حق میں لوگوں کے دل و دماغ میں ایک مثبت رائے بنانے میں مدد دے گی۔

’سعد نے مختلف مدارس کا دورہ کیا اور وہاں ورکشاپس منعقد کئے اور طالبعلموں کو ٹوئٹر استعمال کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں ٹوئٹر پر آپ کو تحریک لبیک پاکستان کے حق میں ٹرینڈز نظر آتے ہیں۔‘

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube