مردم شماری2017 کے نتائج کی منظوری پر سندھ ناراض

SAMAA | - Posted: Apr 14, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 14, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

وزیراعلیٰ سندھ نے 2017 کی مردم شماری مسترد کرتے ہوئے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشترکہ مفادات کونسل میں سندھ نے مردم شماری کی منظوری کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

کراچی میں منگل کو سندھ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے اپنے قیام کے بعد سے متفقہ فیصلے کئے ہیں۔ تاہم پہلا موقع تھا کہ مردم شماری کا فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو انھوں نے پارلیمنٹ میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 وزیراعلیٰ سندھ نے پیر کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں مردم شماری 2017 کی منظوری کا فیصلہ کیا گیا۔ انھوں نے وزیراعظم عمران خان کو بتایا کہ چاروں صوبوں کو مردم شماری کے نتیجے پرشدید تحفظات تھے اس لئےنئی مردم شماری کروائی جائے۔

بلدیاتی انتخابات نئی مردم شماری کےتحت ہونگے،مراد علی شاہ

سندھ کا موقف ہے کہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ اور سندھ کی آبادی 4 کروڑ70 لاکھ رپورٹ کی گئی اور یہ درست نہیں ہے۔

سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں نے ان نتائج پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ میڈیا سمیت سول سوسائٹی اور دیگر رہنماؤں نے بھی کہا تھا کہ اس معاملے پر سنگین غفلت برتی گئی۔

سماء ڈیجیٹل کو ڈیموگرافر ڈاکٹر مہتاب کریم نےبتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کراچی کی آبادی مردم شماری کے عبوری نتائج سے دُگنے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی تحقیق کے مطابق سندھ میں 80 لاکھ افراد کو مردم شماری میں نہیں گنا گیا۔ ان میں 60 لاکھ افراد کراچی اور 20 لاکھ افراد دیگر اربن علاقوں سے ہیں۔

آبادی کی درست گنتی مقامی حکومت کے انتخابات کےلیے اہم ہے۔ سندھ حکومت مقامی حکومت کے انتخابات کےلیے تیار ہے لیکن نئی مردم شماری کے مطابق اسر نو حلقہ بندیوں تک یہ ممکن نہیں ہوگا۔ آئین کے مطابق حلقہ بندیاں اور ووٹرز کا شمار ہر مردم شماری کے بعد کیا جانا چاہئے کیوں کہ آبادی کم یا زیادہ ہوتی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube