Saturday, July 31, 2021  | 20 Zilhaj, 1442

جے یو آئی ف کے رہنما مفتی کفایت اللہ گرفتار

SAMAA | - Posted: Apr 13, 2021 | Last Updated: 4 months ago
Editing & Writing | Ambreen Sikander
SAMAA |
Posted: Apr 13, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فائل فوٹو

خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں پولیس نے جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کرلیا۔ مفتی کفایت 2 ماہ بعد منظر عام پر آئے تھے۔

پولیس کی جانب سے 12 اپریل بروز پیر رات گئے مفتی کفایت اللہ کو ان کی رہائش گاہ تڑنگری صابر شاہ سے گرفتار کیا گیا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری نے گرفتاری کیلئے ان کی رہائش گاہ پر چھاپا مارا۔

پولیس کے مطابق مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری 3 ایم پی او کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔ مفتی کفایت اللہ کو ریاست مخالفت بیان دینے پر گرفتار کیا گیا، جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی رواں سال 3 جنوری کو مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔

مفتی کفایت اللہ کا شمار جمعیت علما اسلام کے سینیئر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ انہیں سال 2019 سال اکتوبر میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، تاہم  بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد سرکٹ کے حکم پر ان کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

تھری ایم پی او کیا ہے؟

قانونی ماہرین کے مطابق ضلعی رابطہ آفیسر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مشکوک شخص کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کیلئے 5 ایم پی او کے تحت جب کہ 3 ایم پی او کے تحت امن وامان کی صورت حال خراب ہونے کے خطرے کے پیش نظر کسی کو جیل میں نظربند کرنے کے احکامات جاری کرسکتے ہیں۔

قانون ماہر کا کہنا ہے کہ 3 ایم پی او کے تحت کسی بھی شخص کو 6 ماہ کیلئے نظربند کیا جاسکتا ہے اور نظربندی کے خلاف صوبائی ہوم سیکریٹری کو درخواست دینے کے علاوہ متعلقہ ہائی کورٹ سے بھی کہا  جا سکتا ہے۔

فوج مخالف بیان

مفتی کفایت اللہ نے دسمبر سال 2019 میں  نجی نیوز چینل  کو انٹرویو میں پاکستان فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ چوری اگر پکڑنی ہے تو آرمی کے جنرلز کی بھی پکڑنی ہوگی۔

اسی انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ کے سابق سربراہ جنرل عاصم سلیم کو بھی پکڑا جائے اور ان کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے۔

مفتی کفایت اللہ کو اس انٹرویو کے بعد سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے اسی حوالے سے جیو نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ آئین اور قانون کے تحت ہر اس شخص کے خلاف کاررائی  ہوگی جو پاکستان آرمی کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کریں گے۔

افواج پاکستان / تمسخر اڑانے پر سزا

واضح رہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ایک ایسے مجوزہ بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر جانتے بوجھتے تنقید کرنے والوں کو 2 سال تک قید اور 5 لاکھ تک جرمانے کی سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔

بل کو پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترمیم کرنے کے لیے کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 کا نام دیا گیا ہے۔

پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شق میں ملک کی مسلح افواج کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔

سیکشن 500 کے متن کے مطابق ‘جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔’

ترمیمی بل میں اضافہ کی جانے والی شق 500۔الف یعنی (500-A) ہے اور اس کو ‘مسلح افواج وغیرہ کے ارادتاً تمسخر اڑانے کی بابت سزا’ قرار دیا گیا ہے۔

بل

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور جب مجوزہ بل پر ووٹنگ کروائی گئی تو اس کے حق اور مخالفت میں پانچ، پانچ ووٹ آئے۔ اس کے بعد چیئیرمین کمیٹی خرم نواز نے اس کے حق میں ووٹ دیا اور یوں یہ مجوزہ بل کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔

بل کس نے پیش کیا

یہ کرمنل لا ترمیمی بل گزشتہ سال ستمبر میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن امجد علی خان کی جانب سے بطور پرائیویٹ بل پیش کیا گیا تھا لیکن اس موقع پر اس بل پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

بل

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے وضاحت کی تھی کہ یہ بل ’پرائیویٹ ممبر‘ کا ہے، نہ کے حکومتی بل۔ اس مجوزہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سول عدالت میں کیس چلے گا۔

فواد چوہدری نے بھی اپنی ہی ایک جماعت کے رکن کی طرف سے اس بل پر تنقید کی ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے مسلح افواج اور اس کے اہلکاروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف قید اور جرمانے کی سزائیں تجویز کرنے والی قانون سازی کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے سینیر صحافی مظہر عباس کے ایک ٹویٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا تھا کہ عزت کمائی جاتی ہے، مسلط نہیں کی جاتی۔

ن لیگ اور پی پی کی مخالفت

پیش ہونے والے اس ترمیمی بل کے تحت مسلح افواج اور ان کے اہلکار جانتے بوجھتے کی جانے والی تضحیک، توہین اور بدنامی سے مبرا ہوں گے اور ایسا کرنے والے شخص کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 اے کے تحت کارروائی ہوگی جس کے تحت دو سال تک قید کی سزا، پانچ لاکھ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن راجہ خرم نواز کی زیرصدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بل پیش کیے جانے کے موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ ممکن ہے کہ اس قانون کی آڑ میں آزادی اظہار رائے پر قدغن لگائی جائے گی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube