وفاقی حکومت کا نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Apr 12, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 12, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

ستمبر اکتوبر میں نئی مردم شماری ہوگی، اسد عمر

وفاقی حکومت نے رواں سال نئی مردم شماری کا فیصہ کرلیا۔ اسد عمر کہتے ہیں کہ 6 سے 8 ہفتے میں مردم شماری کا فریم ورک تیار کرلیا جائے گا، 2023ء سے پہلے مردم شماری کا عمل مکمل کرلیا جائے گا، پرانی مردم شماری کو ٹھیک کرنے کا کوئی طریقۂ کار آئین میں درج نہیں، فی الحال 2017ء کی مردم شماری کی منظوری دے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسدعمر نے اسلام آباد میں مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے کثرت رائے سے مردم شماری کے نتائج کی منظوری دیدی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کی منظوری دیدی

انہوں نے کہا کہ انتظار نہیں کریں گے اور فوری نئی مردم شماری کیلئے کام شروع کریں گے، آئندہ مردم شماری میں شفافیت لانے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں گے، بین الاقوامی اور اقوام متحدہ کے مروجہ طریقۂ کار کے مطابق نئی مردم شماری کریں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ آئندہ مردم شماری کیلئے 6 سے 7 ہفتوں میں طریقۂ کار وضع کریں گے اور مشترکہ مفادات کے اگلے اجلاس میں اس کی منظوری لیں گے، جس کے بعد رواں سال کے آخر میں نئی مردم شماری کا عمل شروع ہوجائے گا اور 2023ء سے پہلے مکمل ہوگا۔

مسلم لیگ ن کی حکومت میں 2017ء میں مردم شماری کرائی گئی تھی جس میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد دکھائی گئی، جس پر ایم کیو ایم پاکستان، جماعت اسلامی، پاک سرزمین پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

مزید جانیے: پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم نے مردم شماری کے نتائج مستردکردیئے

اسد عمر کا پچھلی مردم شماری سے متعلق کہنا تھا کہ اس کے نتائج صحیح تھے یا غلط، مگر تمام کارروائی وفاق اور صوبوں کی زیر نگرانی مکمل ہوئی، مردم شماری کے وقت سندھ میں پیپلزپارٹی اور وفاق میں ن لیگ کی حکومت تھی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چاہتے ہیں کہ آئندہ مردم شماری کے عمل میں تمام صوبوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کا ایجنڈا مردم شماری 2017ء تھا، نومبر 2017ء میں مشترکہ مفادات کونسل میں مطالبہ کیا گیا کہ ایک فیصد کا آڈٹ کرایا جائے، بعد میں 1 فیصد کے بجائے 5 فیصد کے آڈٹ کی منظوری دی گئی، تاہم پارلیمنٹ کی مدت ختم ہونے سے 3 دن پہلے کہا گیا کہ یہ بے مقصد مشق ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube