ٹی ایل پی سربراہ سعد حسین رضوی گرفتار، شہرشہر مظاہرے

SAMAA | - Posted: Apr 12, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 12, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

فائل فوٹو

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو لاہور سے حراست میں لے لیا گیا۔ سینئر پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی سربراہ کو پیشگی اقدام کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ جماعت کے کارکنوں نے مختلف شہروں میں احتجاج شروع کردیا۔

ٹی ایل پی رہنماء پیر اعجاز اشرفی نے سماء ڈیجیٹیل سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کو لاہور سے گرفتار کیا گیا۔

سعد رضوی کو 12 اپریل بروز پیر کی دوپہر اقبال ٹاؤن کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، وہ جامع مسجد رحمت اللعالمین میں ظہر کی نماز پڑھنے گئے تھے۔

سعد رضوی کو حکومت کیخلاف 20 اپریل کو احتجاج کا اعلان کرنے کے ایک روز بعد گرفتار کیا گیا۔

ٹی ایل پی نے فرانسیسی میگزین میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا جس کے بعد نومبر 2020ء میں پی ٹی آئی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے، جس میں طے پایا تھا کہ پارلیمنٹ میں اتفاق رائے کے بعد پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو بے دخل کردیا جائے گا۔

گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت ٹی ایل پی کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو پارلیمنٹ لے کر جائے گی۔  ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ کی مشاورت اور معاونت سے حل کیا جائے گا۔

فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ اسے صحیح سمجھے یا غلط۔

لاہور کے ایک سینئر پولیس افسر نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فی الحال تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد حسین رضوی کیخلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا، انہیں ’’پیشگی اقدام‘‘ کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 26 سالہ سعد حسین رضوی کو ان کے والد خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد ٹی ایل پی کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ سعد رضوی کو سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ ٹی ایل پی کی مجلس شوریٰ نے کیا تھا۔

ان کے سربراہ مقرر ہونے کا اعلان جماعت کے مرکزی نائب امیر سید ظہیر الحسن شاہ نے جنازے کے موقع پر کیا تھا۔

اس موقع پر سعد رضوی نے خطاب میں اپنے والد کا مشن جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

مزید جانیے: کراچی میں احتجاج، مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام

کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سعد حسین رضوی کی گرفتاری کیخلاف تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کی جانب سے احتجاج شروع کردیا گیا۔

کراچی میں نمائش چورنگی، بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، ٹاور، فریسکو چوک، ایئرپورٹ، ناتھا خان، کورنگی نمبر 4، نارتھ کراچی، سہراب گوٹھ، گورنر ہاؤس فوارہ چورک، پریس کلب، ملیر سمیت ایک درجن سے زائد مقامات پر احتجاج کیا گیا جس کے باعث جگہ جگہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔

لاہور سے اسلام آباد اور پشاور جانیوالی مرکزی شاہراہیں بھی جگہ جگہ احتجاج کے باعث بلاک ہوگئیں، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور شہریوں و شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسلام آباد لاہور موٹر وے ایم 2 فیض آباد انٹرچینج، کوٹ عبدالمالک انٹرچینج پر احتجاج کے باعث بلاک ہیں، نیشنل ہائی وے این 5 پر لاہور گجرات سیکشن، مرید کے اور کامونکی شہر، لاہور اوکاڑہ سیکشن، ٹھوکر نیاز بیگ، دینا ناتھ اور اسلام آباد پشاور سیکشن بھی بلاک ہے، ٹیکسیلا انڈر پاس بھی احتجاج کے باعث بند ہے۔

حیدر آباد میں بھی ٹی ایل کارکن اپنے سربراہ کی گرفتاری کیخلاف حیدر چوک پر جمع ہوئے اور مظاہرہ کیا۔

تحریک لبیک کس طرح کی جماعت ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کے قیام سے قبل پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندہ دو اور جماعتیں بھی رہی ہیں، پہلی مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور سلیم قادری کی سنی تحریک۔

مذہبی و سیاسی جماعتوں پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی سبوخ سید کے مطابق جمعیت علماء پاکستان اور سنی تحریک بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندگی تو کرتی تھیں لیکن ان دونوں جماعتوں نے کبھی تحریک لبیک پاکستان کی طرح کسی بھی انتخابات میں پاکستان بھر سے اپنے امیدوار نہیں کھڑے کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی پہلی مین اسٹریم پارٹی کہا جاسکتا ہے۔

سبوخ سید کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کو ایک مین اسٹریم پارٹی بنانے کا سہرا علامہ خادم رضوی کے سر جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی تقریباً تمام ہی مذہبی جماعتوں نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو اپنا ’انتخابی نشان‘ بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب صرف تحریک لبیک پاکستان رہی۔

سبوخ سید کہتے ہیں کہ ’علامہ خادم حسین رضوی اپنے چاہنے والوں کیلئے ایک طلسماتی شخصیت تھے اور تقاریر کرتے وقت ان کے مزاج کی سخت گیری انہیں محفلوں میں دوسروں سے نمایاں رکھتی تھی‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علامہ کے صاحبزادے کیلئے اپنے والد والی خصوصیات پر عبور حاصل کرنا ایک مشکل کام ہوگا اور اس میں ناکامی کی صورت میں تحریک لبیک پاکستان اگلے انتخابات میں اپنی حمایت کھوسکتی ہے۔

سعد رضوی کون ہیں؟

علامہ خادم حسین رضوی کے 26 سالہ صاحبزادے سعد حسین رضوی روز اول سے ہی اپنے والد کیساتھ پارٹی کے امور دیکھ رہے ہیں اور پچھلے کچھ سالوں سے جماعت کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم اپنے والد کی موجودگی میں وہ ہمیشہ ان کے پیچھے ہی رہے لیکن اپنی جماعت کو سوشل میڈیا پر فعال کرنے اور صحافیوں سے روابط قائم کرنے کی ذمہ داری ماضی میں وہی نبھاتے رہے ہیں۔

ان کے قریبی دوست سلمان کے مطابق سعد حسین رضوی اس وقت اپنے والد ہی کے مدرسہ ابو ذر غفاری میں درس نظامی کے درجہ عالیہ کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعد ایک انتہائی سمجھدار اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے نوجوان ہیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ مدرسے کے باقی طالبعلموں کے مقابلے میں سعد دور جدید کے دیگر معاملات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز کو چلانا سیکھا اور اپنے والد کی تقاریر کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچایا‘۔

سلمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اور اس کے ذمہ داران کے فیس بک پر متعدد اکاؤنٹس موجود تھے لیکن دو سال پہلے تک ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان کے دوست کہتے ہیں کہ سعد کو اندازہ تھا کہ ٹوئٹر پر موجود لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں اور وہاں پر تحریک لبیک پاکستان کی موجودگی پارٹی کے حق میں لوگوں کے دل و دماغ میں ایک مثبت رائے بنانے میں مدد دے گی۔

’سعد نے مختلف مدارس کا دورہ کیا اور وہاں ورکشاپس منعقد کئے اور طالبعلموں کو ٹوئٹر استعمال کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں ٹوئٹر پر آپ کو تحریک لبیک پاکستان کے حق میں ٹرینڈز نظر آتے ہیں۔‘

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube