Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

آئی اے رحمان: جو مظلوموں کی آواز بنے

SAMAA | - Posted: Apr 12, 2021 | Last Updated: 5 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 12, 2021 | Last Updated: 5 months ago

معروف صحافی اور انسانی حقوق کیلئے گراں قدر خدمات انجام دینے والے ائی اے رحمان لاہور میں انتقال کرگئے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ شوگر اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا تھے۔

انتقال کے وقت ان کی عمر 90 سال تھی۔  آئی اے رحمان کا شمار پی ایف یو جے کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ آئی اے رحمان گڑ گاؤں میں پیدا ہوئے جو اب بھارتی ریاست ہریانہ میں ہے، یکم ستمبر 1930 میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ابن عبدالرحمان تھا۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ہریانہ سے ہی حاصل کی۔ پاکستان بنا تو وہ علی گڑھ میں ایف ایس سی کے طالب علم تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ایس سی کیا ۔

انہوں نے پاکستان میں ہیومن رائٹس کمیشن کی بھی بنیاد رکھی اور دو دہائیوں تک اس کے ڈائریکٹر رہے۔ آئی اے رحمان ایچ آر سی پی کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

وہ باقاعدگی سے مختلف اخبارات کیلئے کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے عوامی حقوق کی جدوجہد سمیت آزادی اظہار، انصاف کی فراہمی اور آئین کے تحفظ کیلئے بھی اپنے قلم سے ساری عمر جدوجہد جاری رکھی۔

وہ پاکستان ٹائمز کے 1989 میں چیف ایڈیٹر بھی رہے۔ ان کی انسانی حقوق کیلئے کی گئی جدوجہد اور خدمات پر کئی ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

صحافی کیریر کی ابتدا انہوں نے بحثیت رپورٹر کی، تاہم ٹریڈ یونین سرگرمیوں سے ان کی دلچسپی بڑھتی گئی۔ 77ء کے مارشل لاء کے بعد آئی اے رحمان بھی نظربند رہے۔ تاہم انھوں نے اپنے کالموں کے ذریعے آمریت کے خلاف مزاحمت جاری رکھی۔

آئی اے رحامٰن تقریباً 65 برس صحافت سے وابستہ رہے۔ انہوں نے صحافت کے پلیٹ فارم سے ملک کے مختلف مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بطور رپورٹر بھی کام کیا۔ وہ کلچر کے موضوعات پر بھی لکھتے تھے۔

آئی اے رحمان پاکستان انڈیا پیپلز فورم برائے امن و جمہوریت کے بانی سربراہ بھی تھے۔ 2003 میں انھیں نیورم برگ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ دیا گیا۔

انسانی حقوق کے لیے ان کی بے مثال خدمات پر انھیں 2004 میں رامون میگ سے سے ایوارڈ دیا گیا۔ انسانی حقوق اور سماجی شعبے میں خدمات پر اسے اہم ترین عالمی ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔

آئی اے رحمان کے انتقال پر پاکستان بھر سے سماجی ، سیاسی اور ادبی شخصیات کی جانب سے رکھ اور غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بھی آئی اے رحمان کے انتقال پر رکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ آئی اے رحمان انسانی حقوق کے علمبردار تھے۔ ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے آئی اے رحمٰن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دیانتداری کے پیکر تھے جو مشکل ترین اوقات میں ہر بنیادی حقوق اور ہر جمہوری قدر کے لیے مضبوطی سے کھڑے رہے۔

سلمان صوفی فاؤنڈیشن کے بانی سلمان صوفی نے انہیں عقل و دانش کی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی حقائق بیان کرنے سے نہیں گھبرائے۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی سابقہ رہنما بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ آج ملک کے انسانی حقوق کے کارکنان کے لیے بہت افسوسناک دن ہے۔

صحافی نسیم زہرا نے کہا کہ آئی اے رحمان، پاکستان کی جمہوری کوشش کے ہر اول دستہ تھے۔

صحافی رضا رومی کا کہنا تھا کہ آئی اے رحمان انگنت انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی رہنماؤں کے استاد تھے۔

معروف سینیر صحافی امتیاز عالم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوفیہ کرام کے بھی گرویدہ تھے۔ کبھی تکبر ان کے قریب سے نہیں گزارا۔
He Stood on the right side of history

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ بڑے انسان دوست شخص تھے۔ لوگ ان کی طرف کھچنے چلے آتے تھے۔ وہ بائیں بازو سے ماورا تھے۔ کسانوں اور مزدوروں اور ریلوے کے ملازمین کے حقوق کیلئے انہوں نے بے پناہ کام کیا۔ وہ ایسے لوگوں کی آواز تھے، جو خود اپنے لیے آواز نہیں اٹھا سکتے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube