Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

کوہاٹ:16لاشیں ملنےکامعاملہ،لواحقین اورجرگہ میں مذاکرات کامیاب

SAMAA | - Posted: Apr 10, 2021 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 10, 2021 | Last Updated: 10 months ago

شانگلہ: لواحقین اور جرگہ عمائدین میں ہونے والے مذاکرات کا ایک منظر

درہ آدم خیل کے علاقے سے برآمد ہونے والی 16 لاشوں کے معاملے پر لواحقین اور جرگہ عمائدین کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ عمائدین نے لواحقین کے 10 مطالبات منظور کرلیے۔

گزشتہ روز 9 اپریل کو درہ آدم خیل کے علاقے سے 16 افراد کی لاشیں برآمد کی گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق تمام افراد سال 2011 سے لاپتا تھے، لاشیں کوہاٹ کے علاقے جموں کی پہاڑ کی چوٹی سے برآمد کی گئی تھیں۔ تمام لاشوں کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔

لاشیں ملنے کی اطلاع منظر عام پر آنے کے بعد لواحقین اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ لواحقین کی جانب سے جرگہ عمائدین کے سامنے 10 مطالبات رکھے گئے۔ صوبائی مشیر ضیاء اللہ بنگش بھی لواحقین سے مذاکرات کیلئے جمعہ کی رات شانگلہ پہنچے۔

رات گئے تک جاری رہنے والے مذاکرات بعد ازاں 10 اپریل بروز ہفتہ کامیاب ہوئے۔ مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا ضیاء اللہ بنگش کی جانب سے بھی لواحقین اور جرگہ عمائدین کے مابین مذاکرات کامیاب ہونے کی تصدیق کی گئی۔ مذاکرات میں ن لیگی رہنما امیر مقام، سابق ایم پی اے ارشاد خان اور پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

شانگلہ: لواحقین اور جرگہ عمائدین میں ہونے والے مذاکرات کا ایک منظر

مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد مظاہرین نے کوہاٹ روڈ پر جاری دھرنا ختم کرکے روڈ کھول دی۔ جرگہ عمائدین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 26 لاکھ روپے فی کس معاوضہ دے گی، جب کہ 16 افراد کے خاندانوں میں ایک ایک شخص کو سرکاری نوکری بھی دی جائے گی۔

مطالبات میں مزدوروں کی سیکیورٹی اور دیگر مسائل پر قانون سازی سے متعلق بھی اتفاق کیا گیا۔ واقعہ کی جوڈیشل انکوائری اور کمیٹی کا بھی اعلان کردیا گیا ہے۔

مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد لاشوں کو نماز جنازہ اور تدفین کیلئے کوہاٹ کے علاقے جموں سے شانگلہ پہنچا دیا گیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube