Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

سیشن کورٹ: جہانگیراورعلی ترین کی2مقدمات میں ضمانت میں توسیع

SAMAA | - Posted: Apr 10, 2021 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 10, 2021 | Last Updated: 10 months ago

لاہور کے سیشن اور بینکنگ کورٹ نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں توسیع کردی۔

اپریل 10 کو لاہور کے سیشن کورٹ میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی حاضری مکمل کی۔

سماعت کے آغاز میں ایڈیشنل سیشن جج نے پوچھا کہ کیا ایف آئی اے کو کورٹ کے اختیار پر کوئی اعتراض تو نہیں، جس پر ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ عدالت ملزمان کو انویسٹی گیشن جوائن کرنے کا حکم دے۔

اس موقع پر جج حامد حسین نے کہا کہ ایف آئی اے ہر ملزم کا کردار بتائے، انویسٹی گیشن شفاف ہونی چاہیے۔ تمام ملزمان ایف آئی اے میں شامل تفتیش ہوں۔ جس پر ایف آئی اے نے کہا کہ ہميں عدالت کے دائرہ اختيار پر کوئی اعتراض نہيں۔

عدالت نے جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں 22 اپریل تک توسیع کردی، جس کے بعد جہانگير ترين اور علی ترين بنکنگ کورٹ روانہ ہوگئے۔ دونوں کی 2 مقدمات میں ضمانت ميں توسيع دی گئی۔

دوسری جانب بینکنگ عدالت نے بھی جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت میں 17 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے کل جہانگیر ترین اور علی ترین کو بلایا تھا۔ جہانگیر ترین اور علی ترین پیش ہوئے تھے۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ ایف آئی اے دوبارہ طلب کرے گا۔ کرونا کے حالات عدالت کے سامنے ہیں۔

راجہ ریاض اور جہانگیر ترین

میڈیا سے گفتگو میں راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ہم جتنے دوست اکٹھے ہوئے ہیں، ہم بلیک میل نہیں کر رہے۔ قائد عمران خان ہیں، ہم جہانگیر ترین کے ساتھ ہیں۔ سازش کر کے جہانگیر ترین کے خلاف مقدمات بنائے گئے۔ جب کہ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ انکوائری اور انویسٹیگیشن کریں لیکن آزادانہ کریں۔ تفتیشی ٹیم متعصبانہ تحقیقات کر رہی ہے۔ اس وقت جو ہو رہا ہے وہ کسی کی ہدایت پر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جتنے بھی ساتھی ساتھ آتے ہیں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جب عدالت بلائے گی آؤں گا اور اپنا دفاع کروں گا۔ میں قانون کے سامنے حاضر ہوں۔

بینکنگ کورٹ میں پشی

قبل ازیں جہانگیر ترین شوگر ملز کیس کے مقدمے میں بدھ 7 اپریل کو لاہور کے بینکنگ کورٹ میں ضمانت میں توسیع کے لیے پیش ہوئے تھے جہاں عدالت نے 10 اپریل تک ان کی اور ان کے بیٹے علی ترین کی ضمانت میں توسیع کر تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) ان کے خلاف شوگر ملز اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات کے مقدمات قائم کر کے تحقیقات کر رہی ہے اور ان پر گرفتاری اور عدالتی کارروائی کا دباؤ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کی افواہیں

ایک ایسے وقت میں جب جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور انہیں مختلف مقدمات کا سامنا ہے، حال ہی میں جہانگیر ترین کی پیپلزپارٹی میں شمولیت کی خبریں بھی زیر گردش رہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے اپنے ٹویٹر پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ جہانگیر ترین کی مخدوم احمد محمود سے ملاقات ہوئی اور وہ اگلے ہفتے کراچی میں سابق صدر آصف زرداری سے بھی ملیں گے۔

اس ٹویٹ میں مزید یہ بھی کہا گیا تھا کہ جہانگیر ترین، آصف زرداری سے ملاقات میں پی ٹی آئی چھوڑنے اور ساتھیوں سمیت پی پی پی میں شمولیت اختیار کر لیں گے، تاہم بعد میں شہلا رضا کی جانب سے کی گئی یہ ٹویٹ حذف کر دی گئی۔

اس ٹویٹ کے فوراً بعد ہی جہانگیر ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اور پی پی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی خبروں کی تردید کر دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقاتوں اور پی پی میں شمولیت کی خبروں میں صداقت نہیں اور ان کے خلاف میڈیا اور سوشل میڈیا پر مسلسل پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube