Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ملک کے خلاف بات کرنے والوں کیلئے کوئی ریلیف نہیں، لاہور ہائیکورٹ

SAMAA | - Posted: Apr 9, 2021 | Last Updated: 10 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 9, 2021 | Last Updated: 10 months ago
LHC

فوٹو: لاہور ہائیکورٹ ویب سائٹ

لاہور ہائی کورٹ نے غداری کے مقدمے کے خلاف دائر ن لیگی ایم این اے میاں جاوید لطیف کی درخواست واپس لینے کے بعد اسے خارج کردیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملک اور آئین کے خلاف بات کرتے ہیں اور پھر ریلیف لینے آئینی عدالت آجاتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف کے خلاف غداری کے مقدمے کو خارج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ جاوید لطیف کی جانب سے فرہاد علی شاہد ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ غداری کا جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم جاری کرے۔

جمعہ 9 اپریل کو جاوید لطیف کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل فرہاد شاہ کو ہدایت کی کہ وہ دائر ایف آئی آر پڑھیں۔ ایف آئی آر پڑھنے کے بعد چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہماری حب الوطنی ہے یا حب الشخصیت ہے؟۔ جو پاکستان میں رہ رہا ہے، اسے چاہیے اپنے گریبان مں جھانکے۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں۔ شہریت چھوڑ دیں باہر چلیں جائیں۔ اگر نہیں کہا تو پولیس کو صفائی دیں۔

چیف جسٹس قاسم خان کا مزید کہنا تھا کہ کالے کوٹ نے پاکستان بنایا اج وہ ایسے شخص کا دفاع کر رہا ہے۔ ایسے لوگوں کو پاکستان کے عوام مسل دیں گے۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کیس اندراج کیلئے طریقہ کار پر عمل نہیں ہوا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس کئی اور راستے دفاع کے لیے ہیں، ان پر عمل کریں، جواباً وکیل نے کہا کہ ہم اس کی صاف شفاف تحقیقات چاہتے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو ملک کے خلاف بات کرتا ہے، اس کیلئے کوئی ریلیف نہیں۔ ملک اور آئین کے خلاف بات کرنی ہے اور پھر ریلیف لینے آئینی عدالت میں آجانا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل فرہاد شاہ نے عدالت کے روبرو کہا کہ ہم درخواست واپس لے رہے ہیں۔ جس کے بعد وکیل نے جاوید لطیف کی درخواست واپس لے لی۔ عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیاد پر اسے خارج کردیا۔

واضح رہے کہ ن لیگ کے ایم این اے جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ میاں جاوید لطیف کے خلاف درج مقدمے میں ریاست سے بغاوت، غداری اور سائبر کرائم ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔ ان کے خلاف مقدمہ عام شہری کی درخواست پر تھانہ ٹاؤن شپ میں درج کیا گیا تھا۔

جاوید لطیف نے انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر مریم نواز کو کچھ ہوا تو وہ پیپلز پارٹی کی طرح پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے بلکہ اس میں ملوث ذمہ داروں کو قوم کٹہرے میں لائے گی۔ بہت بڑا حادثہ ہوجائے گا، ملک پر رحم کیا جائے اور مشرقی پاکستان جیسی کہانی کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube