کراچی: سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاورگرانے کا حکم دے دیا

SAMAA | - Posted: Apr 8, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Apr 8, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

فائل فوٹو

چیف جسٹس گلزار احمد نے شارع فیصل اور شاہراہ قائدین کے سنگم پر قائم کثیر المنزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاؤر کو گرانے کا حکم دے دیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ ہم پلاٹ کی لیزکینسل کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 8 اپریل بروز جمعرات شاہراہ قائدین اور شارع فیصل تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ بتائیں شاہراہ قائدین نالے پر قائم عمارت کا کیا ہوا؟ کمشنر کراچی نے کہا کہ ایس بی سی سے نے بتایا ہے کہ نالے پر عمارت نہیں ہے۔

جواب پر چیف جسٹس گلزار احمد کمشنر کراچی پر برہم ہوگئے اور کہا کہ ایس بی سی اے کو چھوڑیں، آپ کو براہ راست حکم کا مطلب آپ کو جواب دینا ہے، پوری بلڈنگ ہی نالے پر کھڑی ہے۔ ایس بی سی اے والے خود ملے ہوئے ہیں، اچانک سے ایک پلاٹ نکلتا ہے اور کثیر المنزلہ عمارت بن جاتی ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ شاہراہ قائدین پر نسلہ ٹاور سے متعلق بلڈر کو بلا کر پوچھا جائے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہاں ایس بی سی سے بلڈر ہی کی تو ترجمانی کر رہا ہے۔ 50سالہ پرانے علاقے میں اچانک کیسے ایک پلاٹ نکل آتا ہے؟ کیسے اچانک لیز کردی جاتی ہے ؟ابھی نسلہ ٹاور کی لیز منسوخ کردیتے ہیں۔

اس موقع پر سپریم کورٹ نے ڈی جی ایس بی سے اے کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ نرسری پر واقع نسلہ ٹاور کو گرانے کا کام شروع کریں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ کس نے لیز دی وہ بھی ذمہ دار ہے۔ نسلہ ٹاور غیرقانونی بنا ہوا ہے، بلڈر تو غائب ہے۔ بلڈر نے رپورٹ بھی اپنے حق میں بنوالی ہے۔

فائل فوٹو

چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ ڈی جی ایس بی سی اے کہاں ہیں ؟ آپ ہمارے سامنے کیوں غلط بیانی کر رہے ہیں۔ ڈی جی ایس بی سی اے نے عدالت کو جواب دیا کہ سٹرک کی ری الاٹمنٹ سے پلاٹ نکلا۔

عدالت نے کہا کہ کیا پھر بییچ دیں گے، کل سپریم کورٹ کی عمارت پر دعویٰ کردیں گے۔ سپریم کورٹ کا لے آوَٹ پلان لے آئیں گے تو ہم کیا کریں گے؟۔ آپ لوگ کل سپریم کورٹ کی عمارت کسی کو دے دیں گے۔ آپ لوگ کل وزیراعلی ٰہاوَس پر کسی کو عمارت بنوا دیں گے۔ ہمارے سامنے ایسی غلط باتیں مت کریں، سب معلوم ہے۔ آپ ریکارڈ ڈیجیٹلائز کیوں نہیں کرتے؟۔ دنیا کو معلوم ہے ایس بی سی اے کون چلا رہا ہے۔ ایک مولوی کو ڈی جی ایس بی سی اے بنا کر لاکھڑا کردیا گیا۔ آپ کا خیال ہے کہ آپ ڈی جی ایس بی سی اے ہیں۔ ہر ماہ ایس بی سی اے میں اربوں روپے جمع ہوتا ہے۔ سب رجسٹرار آفس، ایس بی سی اے اور ریونیو میں زیادہ پیسہ بنایا جاتا ہے۔ سب معلوم ہے کیا ہو رہا ہے، ان اداروں کا حال برا ہے ، آپ کچھ اعتراض کریں گے تو آپ کو ہٹا دیا جائے گا۔،

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب جعلی دستاویزات ہیں ایس بی سی اے کا اپر رول بھی جعلی ہے۔ مختیار کار کون ہوتا ہے، یہ حکومت پاکستان کی لیز کردہ زمینیں ہیں۔ پورے کراچی کو مختیار کاروں پر بانٹ دیا ہے کیا؟۔ کراچی تو کیپیٹل رہا ہے کیا ہو رہا ہے کراچی کے ساتھ ؟۔ پی ای سی ایچ ایس اور سندھی مسلم میں بھی مختیار کار آپریٹ کررہا ہے تو گئی ساری زمین۔ کسی کو پرواہ نہیں ہے شہر کی، کیا ہور ہا ہے،کوئی فکر مند نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ آنکھیں کھولیں۔ ایس بی سی اے والے کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟۔ فیروز آباد کا مختیار کار کون ہے؟ اس طرح کے کتنے کاغذ نکالے ہیں اس نے؟۔

اس پر ڈی جی ایس بی اے نے کہا کہ مہلت دے دیں تو مزید تحقئقات کرلیں گے۔ عدالت نے کمشنر کراچی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس شہر کے میں بارے میں کیا جانتے ہیں؟۔ آپ کو کراچی کی تاریخ بھی نہیں معلوم کیا تھا کراچی۔ ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو بلائیں وہ بتائیں گے فیروزآباد میں مختیار کار کیا کر رہا ہے؟۔

ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ کل تک مہلت دے دیں ہم تفصیل پیش کردیں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تو مختیار کار ڈی ایچ اے آنے والا ہے کچھ دیر میں۔ فیروز آباد کا مختیار کار ہوسکتا ہے تو ڈی ایچ اے کا بھی نکل آے گا۔ تاہم اطمینان بخش جواب نہ دینے پر عدالت کی جانب سے کمشنر کراچی کی سرزنش کی گئی۔

عدالتی بینچ نے کہا کہ ان کو معلوم ہی نہیں کراچی کیسے چل رہا ہے؟، کیا سسٹم آپریٹ کررہا ہے۔ ان کو معلوم نہیں ریونیو کے کتنے کیسز بنیں گے ان پر، یہ تو ربر اسٹیمپ کمشنر ہے۔ ان مولانا صاحب ( ڈی جی ایس بی سی اے) کو بھی نہیں معلوم ہے۔ ہمارے لئے اتنی مشکلات ہورہی ہیں عام لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟۔ سی ایم صاحب کی رپورٹ بھی دیکھ لی ہم نے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیاسی وجوہات پر یہ چیزیں ان پر ڈال دی گئیں۔ کام کی باتیں تو بہت کم کی ہم رپورٹ میں غیر ضروری باتیں ہیں۔ یہ بھی نہیں بتایا شہر کو کیسے ٹھیک کریں گے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وسیم اختر صاحب نے الزامات لگائے تھے، تو ان کا جواب دے دیا تھا۔ جس پر دوبار چیف جسٹس نے پوچھا کہ چھوڑیں سیاسی باتیں وسیم صاحب نے کیا کہا اور کیا نہیں۔ سینیر ممبر بورڈ آف ریونیو یہاں آئیں اتنی دیر سے باتیں ہورہی ہیں آپ اٹھ کر کیوں نہیں آے؟۔ اس موقع پر عدالت نے سوال کیا کہ فیروز آباد مختیار کوئی ہے؟؟؟۔ جس پر سینیر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کہا کہ میں تو ایک ہفتہ پہلے آیا ہوں۔ عدالت نے ڈی سی ایسٹ اور مختیار کار کو فوری طلب کرلیا۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان کراچی میں موجود ہیں، جہاں وہ کراچی رجسٹری میں تجاوزات اور سرکلر ریلوے سمیت اہم مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ ، چیف سیکریٹری اور ڈی جی ایس بی سی اے کو نوٹس جاری کيے گئے۔

قبل ازیں چیف جسٹس کی آمد پر گجر نالے کے متاثرین سمیت لوگوں کی بڑی تعداد اپنے کیسز میں اضاف کی طلب کیلئے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر جمع ہوئی۔

کراچی رجسٹری کے باہر ٹیچرز بھی بڑی تعداد میں احتجاج میں موجود رہے۔ احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سےٹیچر کو دھکا دیا گیا ، جس پر وہ غصے میں آگئے۔ معاملے کی نزاکت دیکھتے ہوئے سینیر پولیس افسر نے مذکورہ ٹیچر کے پاس جا کر بات کی اور معاملہ رفع دفع کرایا۔

واضح رہے کہ کراچی رجسٹری کے باہر احتجاج کرنے والے یہ کنٹریکٹ ٹیچرز ہیں، جنہیں گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔

اہم مقدمات کی سماعت اور ممکنہ احتجاج کے پیش نظر عدالت کے باہر سیکورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اہل کاروں کو کراچی رجسٹری کے اطراف میں بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube