Sunday, August 1, 2021  | 21 Zilhaj, 1442

کم عمر ڈرائیورز کے والدین سے ٹریفک پولیس کا شکوہ

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago
Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago

متواتر مہم،چالان سےبھی مسئلہ حل نہیں ہورہا

سڑکوں پر کم عمر ڈرائیورز کا گاڑیاں دوڑانا نہ صرف ان کی اپنی بلکہ دیگر شہریوں کی جان کے لیے بھی خطرے کا باعث ہوتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور میں رواں برس کے پہلے 3 ماہ کے دوران ٹریفک حادثات سے دوچار ہونے والے ڈرائیورز میں سے 2 ہزار ایسے تھے جو لائسنس کے اجراء کے اہل نہیں تھے کیوں کہ ان کی عمریں چھوٹی تھیں۔

سٹی ٹريفک پوليس کا کہنا ہے کہ کم عمر ڈرائيورز کی وجہ سے آئے روزٹريفک حادثات اور انسانی جانوں کا ضياع ہوتا ہے۔ لاہور ميں 40 لاکھ سے زائد موٹرسائيکل ہيں جنہيں چلانے والوں کی بڑی تعداد کم عمر ڈرائيورز کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران 15 ہزار 5 سو 98 مرتبہ والدین کو ان کے کم عمر بچوں کے ٹریفک چالان کیے جانے سے آگاہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات میں کمی نہیں آ رہی اور اکثر بچوں کے گاڑی چلانے کی ويڈيوز بھی منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔

پولیس نے شکوہ کیا کہ کم عمر افراد کو گاڑی يا موٹرسائيکل چلانے سے روکنے کے ليے پولیس کی جانب سے بار بار مہم بھی چلائی جاتی ہے لیکن اس حوالے سے والدین اپنا کردار ادا نہیں کر رہے اور اپنے بچوں کو اس غیر قانونی کام سے نہیں روک رہے۔

دوسرہ جانب ريسکيو 1122 کے اعداو شمار بھی اسی حقیقت کو بیان کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق رواں برس کے پہلے 3 ماہ کے دوران کم عمر ڈرائیورز کے 2 ہزار سےزائد حادثات ہوئے۔

بظاہر والدین اور ٹریفک پولیس سب ہی کم عمر ڈرائیورز کی حوصلہ شکنی پر متفق ہیں لیکن پھر بھی ایسے واقعات میں کمی واقع نہیں ہو رہی۔ سڑکوں پر کم عمر ڈرائیورز کی بہتات دکھائی دیتی ہے، ان کی ویڈیوز بھی فخر سے بنائی جاتی ہیں اور حادثات میں ایسے بچوں اور سڑک پر موجود دیگر بے قصور افراد کی جانیں جانے کے علاوہ بیشتر کو زندگی بھر کی معذوری کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube