Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

ہم تحریک انصاف نہیں جہانگیرترین کے ساتھ ہیں، خرم لغاری

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 5 days ago
SAMAA |
Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 5 days ago

تیس سے 35 ایم پی اے ہمارے ساتھ ہیں

پنجاب اسمبلی کے رکن خرم لغاری کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین میں بے وفائی نہیں ان کے ساتھ زیادتی بند کی جائے، حکومت انکوائری کرے مگر بتائے کہ جہانگیر ترین کے اکاؤنٹس کیوں منجمد کئے گئے؟، ہم تحریک انصاف کے نہیں جہانگیر ترین کے ساتھ ہیں، ہمارے ساتھ صوبائی وزراء سمیت 30 سے 35 اراکین اسمبلی ہیں۔

مظفر گڑھ سے پنجاب اسمبلی کی نشست جیت کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنیوالے ایم پی اے خرم لغاری نے سماء کے پروگرام 7 سے 8 میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ ہم آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر جیت چکے ہیں، جہانگیر ترین کا ساتھ دینے پر ہم سے کوئی نہیں پوچھ سکتا، ہم ان کے ہر فیصلے سے اتفاق کریں گے، ان کے فیصلوں کے مطابق چلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین ہمیں پارٹی میں لے کر آئے تھے، سوال و جواب ان سے ہوتے ہیں جنہوں نے پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑا ہو، ہمارے ساتھ 30 سے 35 اراکین اسمبلی ہیں جن میں وزراء بھی شامل ہیں۔

مزید جانیے: کیا جہانگیر ترین پیپلزپارٹی میں شامل ہورہے ہیں؟

پاکستان تحریک انصاف نے چینی بحران میں ملوث ہونے کے حوالے سے انکوائری میں نام آنے کے بعد جہانگیر ترین کو سائیڈ لائن کردیا تھا، انہیں منی لانڈرنگ سمیت دیگر الزامات پر تحقیقات کا بھی سامنا ہے۔

جہانگیر ترین نے بدھ کو لاہور کی بینکنگ کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کی جانب سائیڈ لائن کے جانے کے بعد تقریباً ایک سال سے خاموش ہوں، میری وفاداری کا اور کیا ثبوت چاہئے، میں دوست تھا، مجھے دشمنی کی جانب کیوں دھکیلا جارہا ہے۔

جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ میری تحریک انصاف سے راہیں جدا نہیں ہوئیں بلکہ تحریک انصاف میں موجود ہوں لیکن ہم تحریک انصاف سے اسوقت انصاف مانگ رہے ہیں۔

جہانگیر ترین نے پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جولائی 2018ء میں عام انتخابات کے فوری بعد انہوں نے کامیاب ہونیوالے آزاد اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے رابطہ کرکے انہیں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت پر آمادہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہم تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں، جہانگیر ترین

دوسری جانب رہنماء جے یو آئی عبدالغفور حیدری نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ لفظ بلاول کا ہے مگر پھر اسی سلیکٹڈ حکومت سے مدد مانگنا اور ان کی مدد سے اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے فیصلے کی خلاف ورزی کی، عوامی نیشنل پارٹی نے کہا کہ پارٹی لیڈر کی دوستی کی وجہ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا لیکن دوستی اور اصول اپنی اپنی جگہ ہوتے ہیں۔

رہنماء پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم میں کوئی جماعت کسی کو جوابدہ نہیں، ہماری نظر میں اس نوٹس کی کوئی حیثیت نہیں۔

تفصیلات جانیں: جہانگیر ترین خود کو عدالت سے کلیئر کرالیں، شہریار آفریدی 

انہوں نے کہا کہ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو اس نوٹس کی اجازت نہیں دینا چاہئے تھی، آپ کو تحفظات تھے تو پی ڈی ایم اجلاس بلاتے، میڈیا میں بیانات سے تلخیاں بڑھتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube