بلدیاتی ادارے بحال نہ ہونے پرسابق میئر لاہورنےہائیکورٹ سےرجوع کرلیا

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 4 months ago

 

بلدیاتی ادارے کو سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بحال نہ کرنےکیخلاف پر سابق میئرلاہورنےہائيکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔عدالت نےدرخواست کے قابل سماعت ہونےکےبارے میں اعتراض ختم کردیا ہے۔

بدھ کو لاہورہائیکورٹ کے جسٹس وقاص روف مرزا نے میئرلاہورکرنل ریٹائرڈ مبشر اور بلدیاتی اداروں کےارکان کی درخواست پراعتراض کی سماعت کی۔

درخواست میں عدالتی احکامات پر بلدیاتی ادارے بحال کرنے کے احکامات پرعمل نہ کرنے کےاحکامات کو چیلنج کیا گیا۔

ہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگادیا۔عدالت نے درخواست پر اعتراض ختم کردیا۔درخواست میں نشاندہی کی گئی کہ سپریم کورٹ کے حکم کو 15 دن گزرنے کے باوجود پنجاب حکومت نے بلدیاتی ادارے بحال نہیں کيے۔

مزید پڑھیں:لوکل گورنمنٹ وقت سےپہلےختم کرنےپرپنجاب سےجواب طلب

درخواست میں قانونی نکتہ اٹھایا گیا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ  کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے اوراس لیے پنجاب حکومت کو سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرنےکا حکم دیا جائے۔

پچیس مارچ کو سپریم کورٹ نے پنجاب میں معطل بلدیاتی ادارے لگ بھگ 2 سال بعد بحال کردیئے۔عدالت نے بلدیاتی ایکٹ کا سیکشن 3 آئین سے متصادم قرار دیا ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لے کرعوامی نمائندوں کو گھر بھجوانے کی اجازت نہیں دےسکتے،صوبے مئی میں بلدیاتی انتخاب کروادیں۔

سپریم کورٹ:پنجاب میں معطل بلدیاتی ادارے 22 ماہ بعد بحال

 

پنجاب حکومت نے مئی 2019 میں بلدیاتی ادارے تحلیل کیے تھے۔الیکشن کمیشن نے بھی صوبائی حکومت کا اقدام غیرقانونی قرار دیا تھا۔بلدیاتی اداروں کی تحلیل کیخلاف درخواستیں ساہیوال کےمیئراسد علی خان سمیت دیگر بلدیاتی نمائیندوں نے دائر کی تھیں۔ درخواستوں پر نوازش علی پیرزادہ کی جانب سے عدالت میں دلائل دیے گئے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube