Sunday, April 11, 2021  | 27 Shaaban, 1442

قبائلی اضلاع میں اراضی کے خونریز تنازعات

SAMAA | - Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 4 days ago
SAMAA |
Posted: Apr 7, 2021 | Last Updated: 4 days ago

خیبرپختونخوا میں انضمام سے پہلے قبائلی اضلاع میں اراضی تنازعات جرگوں کے ذریعے حل کئے جاتے تھے مگر ایف سی آر کے خاتمے کے بعد جرگہ سسٹم بھی ختم ہوگیا اور یہ علاقے بھی باقی ملک کی طرح عدالتوں کے دائرہ کار میں آگئے، قبائلی عوام پر تنازعات کے حل کیلئے عدالتوں کے دروازے تو کھل گئے مگر انضمام کے وقت ناکافی منصوبہ بندی اور باقی ملک کی طرح علاقے میں پٹواری نظام نہ ہونے اور زمینوں کے ریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث یہ تنازعات حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگئے، جس کے نتیجے میں زمینوں کی ملکیت پر آئے روز مسلح تصادم معمول بن چکے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ضلع خیبر کے متعدد قبیلے جن میں کوکی خیل، شیر خان خیل، منیاخیل، تورخیل، لالاخیل اور کٹھیا خیل زمین کے تنازع پر ایک دوسرے کے خلاف مورچہ زن تھے مگر جرگہ کی کوششوں سے اب فریقین کے درمیان عارضی فائر بندی ہوگئی ہے تاہم کشیدگی تاحال برقرار ہے اور کسی مستقل حل کے بغیر یہ تنازع کسی بھی وقت خونیں تصادم میں بدل سکتا ہے۔

تنازعات پر قبائلی عمائدین کا مؤقف

قبائلی عمائدین اراضی تنازعات کا ذمہ دار مقامی انتظامیہ کو قرار دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومت نے جرگہ سسٹم تو ختم کردیا لیکن تنازعات کے حل کیلئے کوئی متبادل طریقۂ کار وضع نہیں کیا۔

عمائدین کے مطابق انتظامیہ کے پاس مقامی اراضی کا سرے سے کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں، جس کے باعث ان تنازعات کے فیصلے عدالتوں کیلئے بھی مشکل ہیں۔

یہ تنازعات اب کیوں سامنے آرہے ہیں؟

جمرود سے تعلق رکھنے والے ملک بسم اللہ خان کا کہنا ہے کہ فاٹا میں پہلے دہشتگردی تھی، پھر فوجی آپریشنز ہوئے، اس لئے 10، پندرہ سال یہ تنازعات کسی کو یاد ہی نہیں تھے۔ اب قبائلی اضلاع قومی دھارے میں شامل ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے یہاں زمینوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ زمینیں مشترکہ ہیں، اب لوگوں کو ضرورت ہے کہ وہ مشترکہ زمینوں کو رہائشی یا کاروباری مقاصد کیلئے استعمال کریں۔ اس پر اکثر متحارب قبائل اور اکثر خاندانوں کے درمیان تنازع کھڑا ہوجاتا ہے۔

ملک بسم اللہ خان کے مطابق پہلے لوگ جرگہ کے ذریعے تنازعات حل کرتے تھے مگر اب لوگ عدالت سے رجوع کرتے ہیں مگر عدالت کے پاس ان زمینوں کا کوئی ریکارڈ ہی دستیاب نہیں جس کی بناید پر وہ ملکیت سے متعلق فیصلے سنائیں۔

ایک اور مقامی قبائلی رہنماء وزیر احمد کا کہنا ہے کہ ان تمام متنازع زمینوں کے فیصلے جرگوں میں ہوچکے ہیں مگر انضمام کے بعد ضلعی انتظامیہ ان فیصلوں کو نہیں مانتی اور چونکہ ان زمینوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تو عدالتیں کوئی فیصلہ بھی نہیں کر پا رہیں۔

ملک خالد اکبر بھی ان باتوں سے کسی حد تک متفق ہیں اور انہوں نے مسئلے کی وجہ انضمام کے وقت ناکافی منصوبہ بندی کو قرار دے دیا۔

ملک صلاح الدین کوکی خیل کا کہنا ہے کہ انضمام سے پہلے لوگ تنازعات جرگہ نظام کے تحت حل کرتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہورہا، حکومت نے پرانا سسٹم تو ختم کردیا مگر متبادل میں کوئی طریقۂ کار نہیں بناسکی، فاٹا انضمام کے بعد درجنوں لوگ صرف جمرود میں مخلتف لڑائیوں میں قتل ہوچکے ہیں اور ضم ہونیوالے اضلاع میں یہ تعداد کئی گناہ زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ضلع خیبر کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام قبائلی اضلاع بشمول فرنٹیئر ریجنز تک میں مختلف قبیلوں اور خاندانوں کے درمیان برسوں سے یہ تنازعات موجود ہیں۔

ملک صلاح الدین کا خیال ہے کہ پرانا جرگہ سسٹم اور رواج ایکٹ بحال کردیا جائے تو مزید انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

ان زمینوں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ جان شیر خان آفریدی کا کہنا ہے کہ چونکہ انضمام سے پہلے یہاں پٹواری نظام نہیں تھا، اس لئے پولئٹیکل ایجنٹ مقامی عمائدین کے ساتھ ملکر مشترکہ زمینوں کے فیصلہ کرتے تھے مگر انضمام کے بعد چونکہ ایف سی آر کا خاتمہ ہوگیا اور تصدیق شدہ ریکارڈ نہ ہونے کے باعث لوگوں کے درمیان تناعات شدت اختیار کرگئے، اس کے علاوہ جو سرکاری ریکارڈ موجود ہے ان میں پیمائش کا طریقہ 18ویں صدی کا ہے جو موجودہ طریقۂ پیمائش سے مختلف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام شاملات (مشترکا زمینوں) کا حکومتی زیر نگرانی از سر نو سروے اور مالاکانہ حقوق کے تعین کی ضرورت ہے۔

پولیس کیا کررہی ہے؟

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) خیبر وسیم ریاض نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ضلع خیبر میں خاندانوں اور قبیلوں کے درمیان اراضی تنازعات بہت پرانے اور اکثر عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

ممکنہ خونیں تصادم روکنے سے متعلق پولیس کے کردار کے بارے میں وسیم ریاض نے بتایا کہ مخالفین کے زیادہ تر مورچے مسمار کردیئے ہیں اور جو باقی رہتے ہیں ان کو بھی جلد خالی کرالیا جائے گا، درجنوں افراد کیخلاف مقدمات درج ہوچکے ہیں، کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

صوبائی حکومت کے اقدامات

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرکے قبائلی اضلاع میں جرگہ نظام کو قائم رکھا لیکن اس کو قانونی اور انتظامی بنیادوں پر مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ضم اضلاع کے عوام کی تجاویز پر حکومت نے 28 دسمبر 2020ء کو ’’آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن‘‘ (اے ڈی آر ایکٹ) صوبائی اسمبلی سے پاس کروایا جس کیلئے اب رولز تیاری کے آخری مراحل میں ہیں، مجوزہ مسودے کی منظوری بہت جلد کابینہ سے لے لی جائے گی۔

صوبائی ایکٹ کے مجوزہ رولز کے مطابق تنازعات کے حل کیلئے جرگہ کو اب زیادہ قانونی تحفظ حاصل ہوگا، جرگے ثالثین، مقامی مشران، ریٹائرڈ سول ملازمین، وکلاء، علماء اور متعلقہ شعبہ جات کے ماہرین پش مشتمل ہوں گے۔ ثالثین کا انتخاب کمیٹی کرے گی، جس میں کمشنر، ریجنل پولیس آفیسر، سینئر سول جج، ریجنل ڈائریکٹر پراسیکیوشن، ڈپٹی کمشنر اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اراکین شامل ہوں گے۔

کامران بنگش نے مزید بتایا کہ نئے قانون کے تحت فریقین کسی بھی تنازع کو کسی بھی وقت اے ڈی آر منتقل کرسکیں گے، فریقین جرگہ کے فیصلے کو حتمی شکل دینے کیلئے عدالت سے احکامات لیں گے، عدالت کا یہ فیصلہ حتمی اور نافذ العمل ہوگا۔

کامران بنگش کا کہنا ہے کہ اے ڈی آر سے عدالتوں پر بوجھ کم ہوگا اور عوام پر سستے اور فوری انصاف کے دروازے کھل جائیں گے، ضم اضلاع میں زمین کی ملکیت سے متعلق تنازعات زیادہ ہوگئے ہیں جبکہ یہ جرگہ نظام ان تنازعات کو احسن طریقے سے حل کرنے کیلئے ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube