پی پی سے اتحاد توڑنے پر وضاحت مانگی ہے، شاہد خاقان

SAMAA | - Posted: Apr 6, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 6, 2021 | Last Updated: 4 months ago

احتساب کا ادارہ خود قابل احتساب ہے

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نےاپوزیشن جماعتوں کےاتحاد کو توڑا ہے جس پر ان سے وضاحت مانگی گئی اور یہ کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ نیب ایک لکی ایرانی سرکس ہے،اس کا کام بدنام کرنا ہے،ملک کے بڑے بڑے اسکینڈل ان کو نظر نہیں آتے۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ایل این جی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نےعدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتےہوئے کیا کہ پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی کو شوکاز نہیں کیا بلکہ مولانا فضل الرحمان نے صرف وضاحت مانگی ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے اس پر ردعمل دینے کی کیا ضرورت ہے، لکھ دیں کہ ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔شاہد خاقان نے بتایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک اتحاد کا حصہ ہے، اتحاد کا فیصلہ آپ نے توڑا ہے اس لئےجواب دینا پڑے گا۔

اپنے کیس سے متعلق شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ آج پھر سے احتساب عدالت میں ایل این جی کا معاملہ چل رہا ہے۔ یہ نہ تو کیس ہے اور نہ ہی اس کیس میں کوئی حقیقت ہے۔ نیب ملک کی سیاست کو تباہ کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ احتساب کا ادارہ خود قابل احتساب ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نیب کی سرکس چلتی رہے گی اور یہ بہت پرانی ہے۔ نیب کا مقصد ہی سیاستدانوں کو ہدف بنانا ہے۔ یا ملک چلا لیں یا پھر نیب کو چلا لیں۔نیب کو حکومت کی کرپشن نظر نہیں آتی۔

اس حوالے سے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کے پاس چیئرمین نیب کی ویڈیوز ہیں اورحکومت چئیرمین نیب کو بلیک میل کررہی ہے۔ایک خاتون نے وزیراعظم پورٹل میں شکایت کی تھی کہ چیئرمین نیب نے کوئی نازیبا حرکات کیں اورکل یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی سامنے آیا ہے۔خاتون نے کہا ہے کہ مجھ سے وعدے کیے گئے تھے جو پورے نہیں ہو سکے۔

نیویارک میں پاکستانی ہوٹل سے متعلق شاہد خاقان نے کہا کہ حکومت روز ویلٹ ہوٹل کے معاملے پر وضاحت کرے کہ آخر یہ معاملہ کیا ہے۔ یہ ہوٹل پاکستان کی ملکیت ہے اور اس کی حقیقت عوام کو بتانا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت چینی اور آٹا امپورٹ کرنے کا اسکینڈل عوام کے سامنے نہ رکھ سکی تاہم ملک کےاثاثے پر ہی عوام کے سامنےکوئی وضاحت کردے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube