Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

صوابی: اے ٹی سی جج کے قتل کا مقدمہ درج

SAMAA | - Posted: Apr 5, 2021 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Apr 5, 2021 | Last Updated: 7 months ago

فائل فوٹو

صوابی میں انسدا دہشت گردی عدالت کے جج آفتاب آفریدی کے قتل کی ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ مقدمے میں متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے صوابی میں اتوار کی شام انبار انٹر چینج کے قریب 2 گاڑیوں میں سوار ملزمان نے اے ٹی سی کے جج کی گاڑی کو روک کر اس پر فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ سے جج آفتاب، ان کی اہلیہ اور 2 بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ جج آفتاب آفریدی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ صوابی سے اسلام آباد جا رہے تھے۔

واقعہ کا مقدمہ صوابی کے تھانے چھوٹا لاہور میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ مقتول کے بیٹے کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں متعدد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مخالفین نے سابقہ قتل کے معاملے پر دشمنی چل رہی تھی، جس پر انہوں نے والد ، والدہ سمیت چاروں افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا۔

ڈی پی او محمد شعیب کا کہنا ہے کہ جج آفتاب آفریدی کے قتل کی تحقیقات کیلئے پولیس جوائنٹ آپریشن ٹیم نے پشاور اور خیبر میں کارروائیاں کی ہیں۔ اس دوران کارروائی میں 5 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈی پی او کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار افراد کی شناخت مقتول جج کے بیٹے کرینگے۔ ایف آئی آر میں شامل 2 گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ شناخت پریڈ عمل کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقتول جج آفتاب آفریدی سوات میں اے ٹی سی کورٹ کے جج تھے۔ انہیں 2 ماہ قبل سوات میں تعینات کیا گیا تھا۔ آفتاب آفریدی کے قتل پر سوات بار نے آج بروز پیر 5 اپریل کو یوم احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ صدر سوات بار عنایت خان نے کہا کہ عدالتوں میں کوئی پیشی نہیں ہوگی۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے جج آفتاب آفریدی اور ان کے بيوی بچوں کے قتل کی سخت الفاظ ميں مذمت کی ہے۔ اپنے بیان ميں وزيراعظم نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے قانون کےمطابق سزادی جائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube