پنجاب:میٹرو اور اورنج لائن ٹرین پر پابندی کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Mar 29, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 29, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فائل فوٹو

پنجاب حکومت نے صوبے میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ پارکس، تفریحی مقامات میں داخلے اور سماجی اجتماعات پر بھی پابندی ہوگی۔ نئی پابندیوں کا اطلاق 11 اپریل تک ہوگا

پنجاب کابینہ کمیٹی برائے انسداد کرونا وائرس کا اہم اجلاس پیر 29 مارچ کو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی سربراہی میں ہوا۔ آج ہونے والے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ انتظامیہ نے بڑھتے کیسز کے تناظر میں 12 فیصد سے زائد مثبت کیسز والے اضلاع میں شادیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

اجلاس میں ان ڈور، آؤٹ ڈور ڈائننگ پربھی مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ ریسٹورنٹس سے صرف ٹیک آوے کی اجازت ہوگی۔ پارکس، تفریحی مقامات اور سماجی اجتماعات پر بھی پابندی ہوگی۔ اجلاس میں میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔ ماسک نہ پہننے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا گیا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کمشنر اور ڈی سی پر مقدمہ درج ہوگا۔ اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صورت حال بہتر ہونے تک کاروباری سرگرمياں 6 بجے تک ہونگی۔ جب کہ ہفتے ميں 2 دن دکانيں بند ہونگی۔ يکم اپريل سے ميرج ہال بند ہونگے۔ جہاں کرونا شرح 12 فيصد سے زائد ہے وہاں 11 اپریل تک لاک ڈاؤن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران مثبت کيسز کی شرح 21 فيصد رہی ہے۔ کرونا کی تیسری لہر پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیسز میں اضافے سے اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ معاشی سرگرمیوں پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگا رہے۔ صنعتوں کی بندش کے حق ميں نہيں۔

قبل ازیں اجلاس کے شرکا کی جانب سے کرونا کی روک تھام کیلئے 7 روزکیلئے مکمل لاک ڈاؤن کی سفارش کی گئی، جب کہ 12 فیصد مثبت کیسز کی شرح والے شہروں میں لاک ڈاؤن کی سفارش کی گئی۔

واضح رہے کہ اتوار 28 مارچ کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر ( این سی او سی) کا اہم اجلاس وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹیریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں کمیٹی نے نئی اور سخت پابندیوں کا حکم جاری کیا ۔ کرونا وائرس کی تیسری اور خطرناک بڑھتی لہر کے سبب جن علاقوں میں کرونا کیسز کی شرح 8 فیصد ہوگی، وہاں ان ڈور کیساتھ آؤٹ ڈور شادیوں کی تقریبات پر پابندی عائد کی جائے گی۔

کمیٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق کرونا کنٹرول کے لیے شدید متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ جاری اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پابندی کا اطلاق تمام سماجی، کھیلوں کی سرگرمیوں، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں پر ہوگا۔ این سی او سی کی جانب سے صوبوں کو دی گئی ہدایت میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کا اطلاع 5 اپریل سے فوری طور پر ہوگا، جو تاحکم ثانی جاری رہے گا۔

قبل ازیں ڈاکٹر فیصل سلطان نے ویکسین سے متلعق بتایا کہ زیادہ انحصار چین اور دیگر ملکوں پر ہے، جب کہ چین سے 10 لاکھ 60 ہزار خوراکوں پر مشتمل کھیپ منگل تک آجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی ادارے سے کوویکس ایسٹرازینیکا ویکسین ملنے میں مزید تاخیر ہوئی ہے، کوویکس کے ذریعے پاکستان کو مارچ میں ایسٹرازینیکا ویکسین کی 28 لاکھ خوراک ملنا تھیں۔

اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب میں پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کرونا کی تشویش ناک صورت حال کے بعد پنجاب میں ماسک کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ جب کہ صوبے بھر میں شادی کی تقریبات پر پابندی لگانے پر غور کیا جا رہا ہے، حتمی فیصلہ پیر 29 مارچ کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ماسک نہ پہننے پر جرمانے اور 6ماہ قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ پنجاب کے5 بڑے شہروں میں کرونا کی شدت زیادہ ہے۔ کرونا وائرس سے متعلق بازاروں اور مارکیٹوں کے بارے میں ترجیحات طے کرکے کل میڈیا سے شیئر کریں گے۔

وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ اسپتال میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تشویش ناک صورتحال والے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ایس او پیز پر عملدرآمد کیلئے صوبائی چیف سیکرٹیریز کو سختی کی ہدایات کی ہیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایس اوپیز پر عمل کریں۔ لوگوں سے درخواست ہے کہ انتظامیہ سے تعاون کریں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube