Thursday, August 5, 2021  | 25 Zilhaj, 1442

ویٹرز وکیلوں والا لباس نہ پہنیں، پنجاب بارکونسل کی تنبیہ

SAMAA | - Posted: Mar 27, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 27, 2021 | Last Updated: 4 months ago

پنجاب بار کونسل نے تمام ہوٹلز و شادی ہالز کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے ویٹرز نے وکیلوں جیسا لباس پہننا بند نہ کیا تو ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سیکریٹری پنجاب  بار کونسل نے اپنے ایک مراسلے میں چیف سیکریٹری پنجاب کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ ہوٹلوں اور شادی ہالز میں ویٹرز و دیگر اسٹاف وکیلوں والا یونیفارم پہنتے ہیں جبکہ ایک لاء گریجویٹ بھی وہ یونیفارم اس وقت تک نہیں پہن سکتا جب تک وہ اینٹری ٹیسٹ پاس کرنے کے علاوہ 6 ماہ کی تربیتی مدت مکمل نہ کرلے۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کے علاوہ کسی بھی شخص کو ایسا یونیفارم پہننے کی اجازت نہیں ہے اور اگر کوئی بھی شخص کسی ہوٹل، شادی ہال، تقریب یا کسی بھی جگہ وکلاء کے لباس میں پایا گیا تو اس کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

مراسلے میں چیف سیکریٹری پنجاب سے گزارش کی گئی کہ وہ صوبے کے تمام اضلاع میں سرکلر جاری کریں کہ ہوٹلز اور شادی ہال کا اسٹاف اگر وکیلوں جیسا یونیفارم پہن رہا ہے تو اس وردی کو فوری طور پر تبدیل کردیا جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube