Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے ن لیگ کا امیدوار متنازع تھا،بلاول

SAMAA | - Posted: Mar 27, 2021 | Last Updated: 8 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 27, 2021 | Last Updated: 8 months ago

اپوزیشن لیڈر کے لیے نون لیگ کا امیدوار نہایت متنازع تھا

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم میں یہ محسوس ہوا کہ پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے نون لیگ کا امیدوار نہایت متنازع تھا۔ تاہم اس وقت مل کر کام کریں تو پارلیمنٹ میں حکومت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ حکومت کےارکان توڑنےسےعدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی ہے تاہم غیرمناسب الزامات ہمارے تعلقات آگے نہیں بڑھاسکتا۔

ہفتے کو کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ چئيرمين سينيٹ کےخلاف ہماری جدوجہدجاری ہے۔پولنگ ڈے پرسينيٹ ہاؤس کو پوليس اسٹيشن ميں تبديل کرديا گيا اورپريزائڈنگ افسر نےغلط فيصلہ دے کريوسف رضاگيلانی کا حق چھينا۔

بلاول بھٹو نےبتایا کہ چئيرمين سينيٹ کے انتخاب پراسلام آباد ہائيکورٹ ميں نظرثانی درخواست دائرکرنےکافيصلہ کیا ہے۔جب عدالت ميرٹ پر کيس سنےگی توجيت ہماری ہوگی۔

مزید پڑھیں:اپوزيشن عمران خان کو وزیراعظم تسلیم کرکے آگے بڑھے، فواد 

پی ڈی ایم سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ مریم نوازکےالزامات کاجواب نہیں دوں گا،پی ڈی ایم کونقصان نہیں پہنچاناچاہتا ہوں۔ پی ڈی ایم کی بنیاد میں نے رکھی ہے اورچاہتاہوں کہ پی ڈی ایم برقراررہے۔چئیرمین پیپلزپارٹی نے وضاحت کی کہ سليکٹڈ کا لفظ ميں نےديا تھا اورجانتاہوں کہ کس کیليےاستعمال ہوسکتا ہےاور کس کيلئے نہيں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ن لیگ کے ساتھیوں کو کہوں گا کہ ٹھنڈا پانی پییں اورلمبے سانس لیں۔پیپلزپارٹی سے جھگڑا کرنے کا کون انہیں غلط مشورے دے رہاہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے محنت اور مشکل وقت کے بعد دوبارہ عملی سیاست میں قدم رکھا۔ اپنے سینیٹر کو کيسےکہتے کہ یوسف رضا گيلانی کو ووٹ نہ ديں بلکہ اعظم نذير تارڑ کوووٹ ديں؟۔ پی پی21،اےاین پی2،فاٹا2،جماعت اسلامی کاایک رکن ملاتےتو26تعداد بنتی تھی اور دونوں جماعتوں کےارکان کی تعداد 26،26 ہورہی تھی۔ ن لیگ کےسابق رکن دلاور نے اپوزیشن لیڈر کےلئے سپورٹ کیا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ بی اے پی کےسینیٹرز اپوزیشن بینچز پر بیٹھ رہے ہیں اور انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ یوسف رضا گیلانی کو ہدایت کی ہے کہ تمام جماعتوں کے ساتھ مل کرکام کریں۔

مزید پڑھیں:صف بندی ہونےسےپتہ چل گيا کہ کون کہاں کھڑاہے،مریم

پنجاب سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ عدم اعتماد اورپارلیمانی آپشنز استعمال کریں گے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کےلیے نون لیگ کا حق ہے۔ قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز ہیں اور ان کا حق بنتا تھا اوربنتا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ بنیں۔ تاہم اگر حمزہ شہباز وزیراعلیٰ نہ بننا چاہیں تو اس صورت میں مسلم لیگ ق اور دیگر جماعتوں سے بات کرنا ہوگی تاکہ ووٹ کواکھٹا کیا جاسکے۔

بلاول بھٹو نےاس حوالےسے مزید کہا کہ پنجاب کواس کٹھ پتلی حکومت سے بچاسکتے ہیں۔عثمان بزدارکٹھ پتلی ہیں اور آج تک پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے100 سے زائد ووٹ رکھتےہوئے بھی ایک بار بھی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی اور ان کا ایک بجٹ بھی چیلنج نہیں کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کئی بار کہہ چکی ہے کہ عمران خان کے ہاتھوں سے پنجاب چھینیں۔

بلاول بھٹو نےمزید کہا کہ کسی کواگر مسلم لیگ ق سے اختلاف تھا تو پیپلزپارٹی کو بتایا جاتا۔جب بھی پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد کی بات کی تو شہبازشریف اور حمزہ شریف سے مثبت جواب ملا۔

انھوں نے مشورہ دیا کہ اگر پی ڈی ایم استعفوں کا فیصلہ کررہی ہے تو ضرور اس بات کا مدنظر رکھنا چاہئے کہ عدم اعتماد کی کوشش کرے اور بڑی اہم ذمہ داری سے منہ نے موڑے۔ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی چاہئے۔

معاشی معاملات پر بلاول بھٹو نے کہا کہ اسٹيٹ بينک کا آرڈيننس ملکی خود مختاری  پرحملہ ہے۔ حکومت کوفوراً اس آرڈیننس کو واپس لینا چاہیے۔ غیرقانونی آرڈیننس کو ہرفورم پر چیلنج کریں گے۔ حکومت کےغلط فیصلوں کی وجہ سے ہرپاکستان کی جیپ پرڈاکہ ہواہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پيٹرول بحران کرکے پاکستان کوتاريخی نقصان پہنچاياگيا اورصرف ايک وزيرکی قربانی سے کچھ نہيں ہوگا۔

بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ 4اپریل کوگڑھی خدابخش میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کا جلسہ نہیں ہوگا بلکہ صرف قرآن خوانی ہوگی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube