پشاورکی عدالت کا عورت مارچ کیخلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم

SAMAA | - Posted: Mar 26, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 26, 2021 | Last Updated: 4 months ago

پشاور کی مقامی عدالت نے شہری کی درخواست پر عورت مارچ اسلام آباد کے منتظمین کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے ديا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عورت مارچ کے نام پر غيراسلامی حرکات کی گئیں۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں 8 مارچ کو خواتین نے اپنے حقوق کیلئے عورت مارچ کا انعقاد کیا تھا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے وکیل ابرار حسین نے اپنے ساتھی اسرار حسین، کاشف احمد ترکئی، صیاد حسین اور عدنان گوہر کے ساتھ مل کر پشاور کے تھانہ شرقی کینٹ میں مذکورہ مسئلے پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی تاہم متعلقہ تھانے نے یہ مقدمہ درج کرنے سے معذرت کر لی تھی۔ جس کے بعد سائلین نے دفعہ 22-اے کوڈ آف کریمینل پروسیجر کے تحت عدالت میں درخواست جمع کروائی اور عدالت کو اس معاملے میں مداخلت کرنے کی گزارش کی۔

ویڈیو: عورت مارچ کے پوسٹرز پر کیا نعرے درج تھے؟

پشاور کی مقامی عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عورت مارچ کے نام پر سڑکوں پر غیر اسلامی حرکات کی گئیں، جس پر مارچ کے منتظمین کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

عدالت نے شہری کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ شرقی کو عورت مارچ اسلام آباد کے منتظمین کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: عورت مارچ کے بعض بینرز ضرورت سے زیادہ ہوتےہیں، متھیرا

ماضی میں بھی عورت مارچ میں لائے جانے والے بینرز اور پلے کارڈز پر درج نازیبا اور نامناسب نعروں پر منتظمین کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube