پریزائیڈنگ افسرکے لاپتہ ہونیکی کوئی مثال نہیں ملتی، جسٹس بندیال

SAMAA | - Posted: Mar 24, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 24, 2021 | Last Updated: 4 months ago

کم ٹرن آؤٹ کو پُرتشدد واقعات کے ساتھ ملایاگیا، عدالت

ڈسکہ ضمنی اليکشن ميں ری پولنگ کے فيصلے کیخلاف کیس میں جسٹس عمر عطاء بنديال نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے ایسا کونسا مواد ہے جس کی بنیاد پر پورے حلقے میں ری پول ہو؟، پریزائیڈنگ افسر کے لاپتہ ہونے کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں۔

سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں ری پولنگ کیس کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل شہزاد شوکت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صرف امن و امان کی صورتحال دوبارہ پولنگ کی وجہ نہیں ہوسکتی، اس حوالے سے عدالتی فیصلہ موجود ہے، الیکشن کمیشن نے سارے معاملے کو انتظامیہ کی ناکامی قرار دیا،

فیصلہ بھی کسی انکوائری کے بغیر جلد بازی میں دیا گیا۔

ن لیگی امیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل میں کہا کہ اس الیکشن کو فراڈ کیٹیگری میں دیکھا جائے،  20 پولنگ اسٹیشنز پر پریزائیڈنگ افسران پولیس اہلکاروں سمیت لاپتہ ہوئے اور اگلے روز ایک ساتھ نمودار بھی ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہی 20 پولنگ اسٹیشنز پر ٹرن آؤٹ بھی 80 فیصد سے زائد دکھایا گیا، عدالت الیکشن کمیشن سے عملہ لاپتہ ہونے کا ریکارڈ طلب کرے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال  نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن نے کم ٹرن آؤٹ کو پُرتشدد واقعات کے ساتھ ملایا ہے، عدالت اس معاملے کا جائزہ لے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے بڑے اہم شواہد پر انحصار کیا، دیکھنا یہ ہے ایسا کیا مواد ہے جس سے پورے حلقے میں ری پولنگ ہو، پریزائیڈنگ آفیسر کے لاپتہ ہونے کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے صوبائی حکومت پر الزامات کے حوالے سے عدالتی معاونت کی اجازت مانگی۔ جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا جو کہنا ہے تحریری طور پر کہیں۔ کیس کی مزید سماعت جمعرات 25 مارچ کو ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube