اسپٹنک ویکیسن کی قیمت کئی گُنا زیادہ ہے، ناصرہ اقبال

SAMAA | - Posted: Mar 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بھارت میں ایک ڈوز کی قیمت 734 روپے ہے

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی چیئرپرسن نے پاکستان میں کرونا ویکسین کی دو ڈوز کی قیمت ساڑھے 8ہزار مقرر کرنے پر تشویش کا اظہار کردیا۔

سماء کے پروگرام 7سے 8 میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی چیئرپرسن ناصرہ اقبال کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا ویکسین کی دو ڈوز کی قیمت ساڑھے 8 ہزار مقرر کی گئی ہے جو بہت زیادہ ہے جبکہ دیگر ممالک میں اس کی قیمت کافی کم ہے۔

ناصرہ اقبال کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر اسپٹنک ویکسین کی طے شدہ قیمت 10ڈالر ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اسپٹنک ویکسین کی دو خوراکیں 20 ڈالر میں دستیاب ہیں، البتہ پاکستان میں اس کی تجارتی فروخت کی منظور شدہ قیمت بین الاقوامی قیمت کے مقابلے میں کئی گنا زائد ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی چیئرپرسن نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ہندوستان میں گامالیہ سینٹر/ اسپٹنک ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت 734بھارتی روپے سے بھی کم ہے، اس شرح کے ساتھ کرنسی کی مالیت میں فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں اسپٹنک کی قیمت ایک ہزار 500 روپے مقرر کی جانی چاہیے تھی۔

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر نجی شعبے کو کرونا ویکسین کی درآمد کی اجازت دینے کی پالیسی پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔ جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو نجی شعبے کو کووڈ-19 ویکسین درآمد اور فروخت کرنے کی اجازت دے گا اور اس سے بدعنوانی کی راہ کھل جائے گی کیونکہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ حکومت کی ویکسین نجی اسپتالوں کو فروخت کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ميں روسی ویکسین کی قیمت ساڑھے 8ہزار جبکہ چینی ویکسین کی قیمت4ہزار 225 روپے مقرر کی گئی ہے۔

دوسری جانب انڈس اسپتال کے سی ای او عبدالباری خان کا کہنا ہے کہ ویکسین کی قیمتوں کا تعین ڈریپ کرتا ہے تاہم اگر پرائیوٹ سیکٹر نے مہنگی ویکسین خریدی ہے تو وہ واپس کردیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube