کرونا وائرس کی برطانوی قسم 60 فیصد زیادہ مہلک ہے، اسد عمر

SAMAA | - Posted: Mar 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago

وفاقی وزیر و چئیرمین نیشنل کمانڈ اینڈ سینٹر (این سی او سی) کا اسد عمر کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کرونا ویکسین کے 36 گھنٹے بعد ٹیسٹ کیاگیا جو مثبت آیا۔ ویزاعظم ویکسینیشن سے قبل ہی کرونا کا شکار ہوچکے تھے۔

سماء کے پروگرام سوال میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کرونا ویکسینیشن سے کی 2 خوراکوں کے بعد قوت مدافعت بڑھتی ہے، ویکسینیشن سے دو روز قبل میٹنگ کے دوران وزیراعظم کو کوئی کرونا کی علامات نہیں تھیں۔

چیئرمین این سی او سی اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کرونا کے مثبت کیسز کی شرح برطانوی وائرس کی ہے جو زیادہ خطرناک ہے۔ کرونا کی پہلی لہر کے مقابلے وائرس کی برطانوی قسم 60 فیصد زیادہ مہلک ہے جس سے بچے بھی خاصے متاثر ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ پیر سے ملک میں لاک ڈاؤن لگایا جارہا ہے اس قسم کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں لیکن وبا کے پھیلاؤ کے باعث سخت اقدامات کیے جارہے ہیں۔

چیئرمین این سی او سی کا کہنا تھا کہ پیر کو صوبوں سے مشاورت کریں گے جس کے بعد کوئی حکمت عملی وضح کی جائے گی جبکہ کوشش یہ رہے گی کہ لوگوں کو کم سے کم کاروباری نقصان ہو۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صحت کی ذمہ داری صوبوں کی ہے تاہم ہنگامی صورتحال کے باعث وفاق ذمہ داری نبھا رہاہے۔ وفاق نے کرونا کی لہر کے دوران اسپتالوں میں کٹ فراہم کیں، وینٹیلٹرز، آکسیجن بیڈز دیے کیونکہ شہریوں کی صحت کا معاملہ تھا اور یہ وقت آئینی بحث کرنے کا نہیں تھا۔

انھوں نے صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پرائیوٹ سیکٹرز نے ویکسین منگوالی ہیں وفاق کی جانب سے صوبوں پر کوئی دباؤ نہیں وہ ویکسین منگواسکتے ہیں۔ پرائیوٹ سیکٹر نے گزشتہ دنوں روسی ویکسین اسپٹنک درآمد کی ہے۔

کرونا وائرس کے دوران پرائیوٹ اسپتالوں کے سوال پر اسدعمر کا کہنا تھا کہ ڈریپ کے قانون کے تحت پرائیوٹ سیکٹر ویکسین بیچ سکتا ہے تاہم ویکسین کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اس کا این سی او سی سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ وفاق کی صوابدید ہے کہ این سی او سی کی جانب سے وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں لیکن اس میں صوبوں سے مشاورت کی جاتی ہے تاہم بعض اوقات صوبوں کے مینڈیٹ کے خلاف بھی فیصلہ کرلیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام صوبوں میں ہیلتھ کیئر کمیشن ہیں جنہیں یہ اختیار ہے کہ وہ پرائیوٹ اسپتالوں پر نظر رکھیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube