Thursday, June 17, 2021  | 6 ZUL-QAADAH, 1442

این اے 75ڈسکہ: نقشہ اوردیگر ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع

SAMAA | - Posted: Mar 18, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Mar 18, 2021 | Last Updated: 3 months ago

Supreme court, Sugar Inquiry Commission

این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب پرتشدد واقعات کے بعد کالعدم قرار دیئے جانے اور دوبارہ پولنگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نقشہ اور دیگر ریکارڈ جمع کرادیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ چیف سیکریٹری کو 20 منٹ میں 7 فون کئے لیکن جواب نہ ملا۔

سپریم کورٹ نے این اے 75 ڈسکہ کے حوالے سے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا گیا جس میں لکھا گیا کہ کہ جائزہ لیں گے الیکشن کمیشن کا ڈسکہ میں شدید ردعمل دائرہ اختیار میں تھا یا نہیں-

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، سوال یہ ہے کہ دوبارہ انتخاب کیلئے شواہد، قانون کی خلاف ورزی کا معیار کیا ہونا چاہئے، دوبارہ انتخاب کے حکم کیلئے ٹربیونل کا معیار الیکشن کمیشن کیلئے نہیں ہوسکتا۔

عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن سے این اے 75 کا نقشہ طلب کرلیا اور کہا کہ نقشے کے ذریعے بتایا جائے کن پولنگ اسٹیشنز پر قانون کی کیا خلاف ورزیاں ہوئیں۔

عدالتی حکم کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 75 ڈسکہ کا نقشہ اور دیگر ریکارڈ جمع کرادیا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پرتشدد واقعات کے بعد چیف سیکریٹری کو 20 منٹ میں 7 فون کالز کیں، یہ تمام کالز صبح کے وقت کی گئیں، جس پر کوئی جواب نہیں ملا۔ الیکشن کمیشن نے دیگر افسران کو کی گئی کالز کا ریکارڈ بھی عدالت میں جمع کرایا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حلقے کے 38 پولنگ اسٹیشنز پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے، 54 پولنگ اسٹیشنز پر ٹرن آؤٹ 35 فیصد سے کم تھا، لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کے پولنگ اسٹیشنز کی تفصیلات پیش کردہ نقشے میں شامل ہیں۔

این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ سے متعلق کیس کی مزید سماعت کل  (جمعہ کو) ہوگی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube