Thursday, June 17, 2021  | 6 ZUL-QAADAH, 1442

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے لانگ مارچ ملتوی کردیا

SAMAA | - Posted: Mar 16, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 16, 2021 | Last Updated: 3 months ago

پیپلزپارٹی کے فیصلے تک مارچ ملتوی تصور ہوگا، فضل الرحمان

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے 26 مارچ کو طے شدہ لانگ مارچ ملتوی کردیا۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کو استعفوں پر اعتراض ہے، وہ اپنی سی ای سی میں مشاورت کریں گے، ان کے فیصلے تک لانگ مارچ کو ملتوی سمجھا جائے۔ پی ڈی ایم سربراہ سوالات سے قبل ہی پریس کانفرنس اھوری چھوڑ کر چلے گئے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا اجلاس اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس کا ایجنڈا 26 مارچ کو لانگ مارچ کے حوالے سے تھا، لانگ مارچ کے ساتھ اسمبلیوں سے استعفوں کو وابستہ کرنے کے حوالے سے 9 جماعتیں متفق ہیں، پاکستان پیپلزپارٹی کو اس پر تحفظات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے وقت مانگا ہے، وہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں دوبارہ مشاورت کریں گے، جس کے بعد فیصلوں سے آگاہ کیا جائے گا، انہیں موقع دیا اور ان کے فیصلے کا انتظار ہوگا۔

پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کے فیصلہ کرنے تک 26 مارچ کا لانگ مارچ ملتوی تصور کیا جائے گا۔

یہ بھی جانیے: تمام جماعتیں استعفوں پر متفق ہیں، مولانا فضل الرحمان

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے جواب تک قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب نے کہا کہ میاں صاحب آپ بھی آئیں مل کر جدوجہد کرتے ہیں، جس پر میں نے ان سے کہا کہ میاں صاحب کو واپس لانا قاتلوں کے حوالے کرنے کے مترادف ہوگا، ن لیگی رہنماء اور کارکنان میاں صاحب کی جان کیلئے کوئی خطرہ نہیں چاہتے، ہمیں زندہ لیڈرز چاہئیں، ان کی لاشیں نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب سے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ میاں صاحب کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، سب سے لمبی جیل میاں صاحب نے کاٹی ہے، وہ بستر مرگ پر اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر وطن واپس آئے اور جھوٹے مقدمے میں بہادری سے جیل کاٹی، حکومت کے ہاتھ پاؤں اس وقت پھولے جب ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوئے، اس لئے انہیں پاکستان سے باہر بھیجا۔

مزید جانیے: آصف زرداری نے استعفوں کونوازشریف کی واپسی سے مشروط کردیا

واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے استعفوں کی تجویز کو ان کی وطن واپسی سے مشروط کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے میاں صاحب وطن واپس آئیں پھر استعفوں کی بات کریں، اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا، مجھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں، اسٹیبلشمنٹ کیخلاف جدوجہد ذاتی عناد کے بجائے جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے ہونی چاہئے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کو پارلیمنٹ سے استعفوں کیلئے اپنے اراکین کی جانب سے اختیار دیا تھا۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ اپنی جماعت کے تمام ارکان اسمبلی کے استعفے آپ کے حوالے کرنے کو تيار ہيں، کوئی مانے يا نہ مانے ہمارے استعفوں پر آپ فيصلہ کرسکتے ہيں۔

مریم نواز نے پی پی رہنماء آصف زرداری کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنی مرضی سے یہاں ہوں، نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے، جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں۔

مریم نواز شریف نے پی پی رہنماء سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ زرداری صاحب آپ نے جو باتیں کیں مجھے دکھ ہوا، آپ کو باپ کا درجہ دے کر آپ سے گلہ کرنا اپنا حق سمجھا، آپ ضمانت دیں والد کی زندگی کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت گرانے کیلئے آخری دھکا ضرور دینگے، مریم نواز

مریم نواز کے شکوہ کرنے پر سابق صدر آصف زرداری نے نواز شریف کی واپسی سے متعلق اپنے ریمارکس پر مریم نواز سے معذرت کرلی۔ جس پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ میرا مقصد آپ سے معذرت کرانا نہیں تھا، میں نے آصفہ اور بختاور کی طرح آپ سے گلہ کیا، اس بات کو یہاں اب ختم کردیں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube