چیئرمین سینیٹ الیکشن:مستردووٹ کےمعاملےپرپرپیپلزپارٹی نےقانونی ٹیم بنادی

SAMAA | - Posted: Mar 14, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 14, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فائل فوٹو

چیئرمین سینیٹ کےانتخاب کے دوران 7 ووٹ مسترد ہونے کےمعاملےپر پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے 4 رکنی قانونی ٹیم تشکیل دے دی ہےجو قانونی پہلؤوں کو مد نظر رکھ کرمنگل یا بدھ کواسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرے گی۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 7 ووٹوں پر ڈاکا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو تقسیم کرنے کی ناکام کوشش تھا۔

جمعہ کوسینیٹ میں چئیرمین کے انتخاب کے دوران اپوزیشن سینیٹرز کے مسترد ہونے والے7ووٹ یوسف رضا گیلانی کےچیئرمین سینیٹ بننے کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ پیپلز پارٹی نے پریذائیڈنگ آفیسر مظفر حیسن شاہ کے ووٹ مسترد کرنے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا اوربلاول بھٹو سمیت دیگراعلیٰ قیادت کی مشاورت سے قانونی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی۔

اس ٹیم میں فاروق ایچ نائیک،رضاربانی،نیئرحسین بخاری اورلطیف کھوسہ شامل ہیں۔آرٹیکل 199 کے تحت آئینی درخواست منگل یا بدھ کو اسلام آبادہائیکورٹ میں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمانی کارروائی کا حصہ نہیں۔آئین کے اس آرٹیکل کے تحت عدالت چیئرمین سینیٹ کےالیکشن سے متعلق شکایات پر سماعت کر سکتی ہے۔

پی ڈی ایم کا مسترد ووٹوں کا معاملہ ہائیکورٹ میں چیلنج کرنےکا فیصلہ

واضح رہے کہ 12 مارچ کو ہونے والےایوان بالا میں چیئرمین کیلئےحکومتی امیدوارصادق سنجرانی کو 48 اوریوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے تھے،جس کے بعد حکمراں جماعت اور اتحادیوں کے نامزد رکن صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔

سینیٹ انتخاب میں 7 ووٹرز نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے۔ ایک ووٹ اس لیے مسترد ہوا کیوں کہ دونوں امیدواروں کے آگے مہر لگائی گئی تھی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube