Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

مائیں ذہنی توازن کھو بھی دیں بیٹوں کانام نہیں بھولتیں

SAMAA | - Posted: Mar 8, 2021 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 8, 2021 | Last Updated: 7 months ago

ایدھی پناہ گاہ میں اولاد کو ترستی بوڑھی نگاہیں

عورت کا سب سے حسین روپ ماں کی شکل میں ہوتا ہے جو ایک ایسی ہستی ہے جسے لاکھ ذہنی مریض قرار دے دیا جائے یا وہ واقعی اپنے حواس کھو بیٹھی ہوں لیکن تب بھی عموماً سب کچھ بھول جانے کے باوجود وہ اپنی اولاد خصوصاً بیٹوں کے نام نہیں بھولتیں، حتیٰ کہ ایسے بیٹوں کے بھی جو انہیں اپنی مرضی یا کسی اور کے دباؤ پر غیروں کی پناہ گاہوں میں چھوڑ آتے ہیں اور پھر کبھی مڑ کر بھی نہیں دیکھتے۔

کراچی میں ایسی ہی ايک ایدھی پناہ گاہ بھی ہے جہاں ذہنی امراض میں مبتلا خواتیں بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان میں سے کسی کو گھر والے چھوڑ گئے تو کوئی حالات سے تنگ آکر بھاگ آئی ليکن اہلخانہ کی یاد ان کے دلوں سے نہیں جاتی۔

وہاں موجود اکثر خواتين کو ذہنی مريض بتايا جاتا ہے اسی وجہ سے انہيں گھروں سے نکال ديا گيا یا پھر ان میں سے کچھ کو گھر والےعلاج کیلئے چھوڑ گئے اور پھر ان کی زندگی اسی چہار ديواری ميں گزرجاتی ہے۔ ایسی بیشتر بے بس خواتین کو کئی برسوں سے کوئی پوچھنے نہیں آیا۔

ان میں سے کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو گھر ہوتے ہوئے بھی سڑکوں پر پڑی ملتی ہیں اور مسلسل ذہنی اذیت انہیں اس نہج پر بھی لے آتی ہے جہاں انہیں ذہنی طور پر صحتمند تصور نہیں کیا جارہا ہوتا۔

جب سماء نے ایک متاثرہ خاتون سے بات کی تو بظاہر اور کچھ تو انہیں یاد نہیں تھا لیکن وہ اپنے بیٹے کا نام لے کر پکارتی رہیں اور کہتی رہیں کہ انہیں آکر وہاں سے لے جائے۔

یہاں اور بھی کئی ایسی خواتین ہیں جو ذہنی توازن ٹھیک نہ ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو نہیں بھول پائیں۔ ایسی ہی ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹا بیٹی اکثر ان کے خواب میں آتے ہیں اور اس کے بعد پھر بہت یاد آتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر جانا چاہتی ہیں۔

پناہ گاہ میں ایسی بھی خواتین ہیں جن کا علاج مکمل کرنے کے بعد انہیں گھر والوں کے ساتھ بھیج دیا گیا لیکن کچھ عرصے بعد ان کی اولاد انہیں دوبارہ وہاں چھوڑ گئی اور ایسا اکثر خواتین کے ساتھ ہوتا ہے۔

پناہ گاہ کی ڈاکٹر نسیم کا کہنا ہے کہ عورت صنف نازک ہوتی ہے اور وہ ایک حد سے زیادہ ذہنی دباؤ یا ٹینشن برداشت نہیں کرسکتی اور ایسی صورت میں خود کو ڈسٹرب محسوس کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ 100 فیصد خواتین رویوں کی وجہ سے یہاں پہنچیں بلکہ ایسی بھی ہیں جو پہلے ہی سے ذہنی طور پر تھوڑی کمزور تھیں لیکن پھر جب ان پر زیادہ دباؤ پڑے تو ان کا کیس مزید بگڑگیا۔

اپنے گھر کے بڑوں خصوصاً ایسے افراد جو ذہنی طور پر بہت مضبوط نہ ہوں یا قوی اعصاب کے مالک نہ ہوں کا اگر صحیح طور پر خیال رکھا جائے اور اگر وہ کبھی کوئی ناگوار بات کر بھی دیں تو ایسی باتوں کو تھوڑا نظر انداز کیا جائے تو انہیں مکمل ٹوٹنے سے بچایا جاسکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube