Thursday, June 17, 2021  | 6 ZUL-QAADAH, 1442

لوگوں کا لاپتہ ہونا ریاست کی ناکامی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

SAMAA | - Posted: Mar 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Mar 8, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فوٹو: آن لائن

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق وفاق سے 2 ہفتوں میں جامع رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس عامر فاروق نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا لاپتہ ہونا ریاست کی ناکامی ہے، ایسے واقعات کی ذمہ دار وزارت دفاع اور وزارت داخلہ ہی ہیں، جیسے بھی حالات ہوں کسی کو لاپتہ کئے جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا، اگر کوئی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اُس کیخلاف کارروائی کریں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیر پر مشتمل 2 رکنی بینچ میں ہوئی، عدالت نے وفاق سے لاپتہ افراد کے حوالے سے جامع رپورٹ 2 ہفتوں میں طلب کرلی۔

جسٹس عامر فاروق نے لوگوں کے لاپتہ ہونے کو ریاست کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی جی پولیس، سیکریٹری وزارت داخلہ اور سیکریٹری دفاع ہی ذمہ دار ہیں، اگر کوئی ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں، اگر ریاست تسلی بخش جواب نہیں دیتی تو سنگل بینچ کے فیصلے کو برقرار رکھیں گے۔

انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ہمارا کوئی بندہ لاپتہ ہوجائے تو ہم کیا کریں گے؟۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، کچھ لاپتہ افراد اب تک ٹریس نہیں ہورہے۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے سوالات پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان لوگوں کو کیا جواب دوں، جو لوگ لاپتہ ہوئے ان کے گھر والوں کی داد رسی تو کریں، اس معاملے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، پانچ 5 سال ہوگئے لوگوں کو لاپتہ ہوئے، پچھلے 3 سال سے ان کیسز میں کچھ نہیں ہوا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube