Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

کیا اب 6ماہ تک تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جاسکتی؟

SAMAA | - Posted: Mar 6, 2021 | Last Updated: 9 months ago
Posted: Mar 6, 2021 | Last Updated: 9 months ago

جانیے آئین کے تناظر میں ماہرانہ رائے

وزیراعظم عمران خان کے اعتماد کے ووٹ لینے کے بعد کچھ حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا تھا کہ آئین کے تحت اب کتنے عرصے تک وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا؟۔ اس حوالے سے ہفتہ کے روز وزیر داخلہ شیخ رشید نے یہ نکتہ اٹھایا کہ وزیراعظم عمران خان نے چونکہ اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے، اس لئے اب آئندہ 6 ماہ تک عدم اعتماد کی کوئی تحریک پیش نہیں کی جاسکتی۔

سماء ٹی وی اسلام آباد کے بیورو چیف اور سینئر صحافی خالد عظیم چوہدری نے اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے آئین پاکستان میں یہ درج تھا کہ اگر کسی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوجائے تو دوبارہ 6 ماہ تک اس قسم کی کوئی تحریک پیش نہیں کی جاسکتی لیکن سن 1985ء میں وہ شرط ختم کردی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہے اعتماد کی تحریک ہو یا عدم اعتماد کی اب اس کیلئے آئین میں 6 ماہ کی مدت والی پابندی موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شیخ رشید کو مغالطہ ہوا ہے اور غالباً ان کے ذہن میں وہ پرانی شق ہوگی جس کی بناء پر انہوں نے یہ کہا کہ آئندہ 6 ماہ تک ایسی کوئی تحریک پیش نہیں کی جاسکے گی۔

مزید جانیے: وزیراعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا

سینئر صحافی کا مزید کہنا تھا کہ ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ اعتماد کا ووٹ آرٹیکل 97 (7) کے تحت ہوا اور حکومت نے اس آرٹیکل کو ترجیج اس وجہ سے دی تاکہ اس کے تحت لئے گئے اعتماد کے ووٹ کے دوران حکومتی ارکان کے سروں پر نا اہلی کی تلوار لٹکتی رہے اور وہ کوئی رو گردانی نہ کرسکیں۔

خالد عظیم نے وزیراعظم کے خط پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حکومتی اراکین اسمبلی کو کوئی دھمکی نہیں دی گئی بلکہ انہیں یہ باور کرایا گیا کہ آرٹیکل 97 (7) کے تحت وہ ایوان میں آنے اور اس کے علاوہ پارٹی لائن کے مطابق ووٹ دینے کے پابند ہیں اور ان دونوں باتوں سے روگردانی نہیں کی جاسکتی ورنہ ایسے اراکین نااہل ہوکر رکنیت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ ہفتہ 6 مارچ کو ہونیوالے اعتماد کے ووٹ کیلئے اپوزیشن نے کوئی تحریک پیش کی نہ اس کیلئے کہا بلکہ یہ تو ایک طرح سے صدر مملکت نے وزیراعظم کو یہ کہتے ہوئے للکارا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ اسمبلی کی اکثریت کا اعتماد نہیں رکھتے لہٰذا وہ ثابت کریں کہ اسمبلی کی اکثریت انہیں وزیراعظم کے عہدے پر دیکھنا چاہتی ہے۔

خالد عظیم نے واضح کیا کہ شیخ رشید نے بالکل ٹھیک کہا کہ ہفتہ کے روز اپوزیشن اسمبلی میں آنے یا نہ آنے کی پابند نہیں تھی، ہاں اگر اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی ہوتی تب وہ اسمبلی میں آنے اور حاضری بھی پوری کروانے کی پابند ہوتی جبکہ اس صورت میں حکومتی اراکین اسمبلی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں ہوتے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube