Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

پاکستانی اسمگلرز کا نہلے پر دہلا، نائجیرین مافیا بے بس

SAMAA | - Posted: Mar 5, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Mar 5, 2021 | Last Updated: 1 month ago

یہ کیس سردخانے کی نظر ہو چکا تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے، یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب اس کیس میں جیل کسٹڈی پر ایک ملزم نے سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی۔ اسی دوران 27 فروری کو رات نو بجکر چھپن منٹ پر کرائم رپورٹرز کے گروپ میں ایک یک سطری خبر آئی کہ ایس ایچ او اور ایس آئی او ڈیفنس پولیس اسٹیشن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نومبر 14، 2020 کی دوپہر کو کراچی پولیس کمپلینٹ نمبر پر انٹرنیشنل نمبر سے کال آتی ہے، پولیس کے مطابق کالر صحیح طریقے سے اردو بول بھی نہیں سکتا تھا اس نے بتایا کہ کراچی میں واقع ایک بنگلے میں کچھ غیر ملکیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ کالر نے پولیس کو مغوی کا پاکستانی رابطہ نمبر دیا اور اس نمبر کی مدد سے پولیس نے ایڈریس ڈھونڈ نکالا۔

آپریٹر نے شام 5 بجے وائرلیس کیا اور بتایا کہ ڈیفنس فیز سیون میں واقع ایک بنگلے میں کچھ غیر ملکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ وائرلیس پیغام پر گزری اور ڈیفنس پولیس کی دو پولیس موبائل بتائے گئے پتے پر پہنچ جاتی ہیں اور پھر تعین ہوتا ہے کہ یہ ڈیفنس پولیس کی حدود ہے۔ پولیس بنگلے کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے اور اندر سے ایک شخص، جس نے اپنا نام ادیب شاہ بتایا، آتا ہے اور دروازہ کھولتا ہے۔ پولیس بنگلے کے اندر داخل ہوتی ہے اور وہاں سے تین نائجیرین باشندے صحیح سلامت برآمد ہو جاتے ہیں۔

ان کی شناخت اگوجی سیموئیل اگوچیکو، لکی اباروہا اور انوروم ایمیکا کے ناموں سے ہوتی ہے۔ مغویوں کے ساتھ ایک اور شخص بھی موجود ہوتا ہے جس کا نام حاجی عمران بتایا جاتا ہے جو کہ ان پر نطر رکھے ہوتا ہے۔ اس کے پاس سے ایک پسٹل بھی برآمد ہوتا ہے پولیس اسے بھی ادیب شاہ سمیت گرفتار کر لیتی ہے۔

مبینہ مغویوں اور اغواکاروں کو پولیس موبائل میں ڈال کر تفتیش کے لیے ڈیفنس تھانے لے آتی ہے جہاں اگوجی سیموئیل اگوچیکو کی مدعیت میں اغوا کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے۔

مدعی مقدمہ اپنے بیان میں پولیس کو بتاتا ہے کہ اس کاتعلق نائجیریا سے ہے اور وہ گارمنٹس کا کاروبار کرتا ہے۔ وہ یکم مئی 2020 کو کاروبار کے سلسلے میں پاکستان آیا۔ نائجیریا میں اس کے ایک دوست، جس کا نام اس نے مائیک بتایا، نے اس کو پاکستان میں مقیم حاجی عمران کا ریفرنس دیا اور کہا کہ حاجی عمران اس کو پاکستان میں گارمنٹس کے کاروبار سے منسلک چوٹی کے کاروباری حضرات سے ملوائے گا۔ مدعی کے بیان کے مطابق جب وہ یکم مئی کو جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہنچتا ہے تو یہاں ایک شخص، جس نے اپنا نام ریاض بتایا، وہ اسے ائیرپورٹ سے لیتا ہے اور ایک نامعلوم جگہ پر لے جاتا ہے جہاں پر اس سے پاسپورٹ اور ناجیرین سم کارڈ لے لیا جاتا ہے اور اس کو بتایا جاتا ہے کہ اس کے دوست مائیک نے حاجی عمران کے پچاس ہزار ڈالرز ادا کرنےتھے، جو کہ اس نے تاحال واپس نہیں کیے۔ ایک پاکستانی نمبر سے اگوجی کی بات اس کے دوست مائیک سے کروائی گئی جس نے تصدیق کی کہ اس نے حاجی عمران کے پچاس ہزار ڈالرز ادا کرنےہیں اور کال کاٹ دی۔ اگوجی کے مطابق اس دن کے بعد اس نے مائیک کا نمبر کئی دفعہ ٹرائی کیا مگر وہ نمبر پھر کبھی آن نہ ہوا۔

اگوجی نے مزید بتایا کہ کچھ دنوں بعد حاجی عمران نے رات کی تاریکی میں اسے ایک اور جگہ منتقل کیا جہاں اس نے دیکھا کہ اس کے ملک کے دو اور باشندے وہاں مغوی بنا کر رکھے گئے ہیں۔ تین ماہ بعد اغوا کاروں نے اس کا رابطہ اس کی فیملی سے کروایا۔ ایک ویڈیو کال کروائی گئی جس میں اگوچی نے اپنی رہائی کے عوض پچاس ہزار ڈالرز کی درخواست کی۔ یہ ویڈیو کال بھی ایک پاکستانی سم کارڈ کے ذریعے کروائی گئی۔ پھر 14 نومبر کو پولیس نے اس بنگلے میں پہنچ کر چھاپا مارا اور اس کو دو اور نائجیرین باشندوں سمیت بازیاب کروا لیا۔

مقدمے کہ اندارج کے اگلے ہی دن پولیس مغویوں اور اغواکاروں کو ایک انسداددہشت گردی کی عدالت میں پیش کرتی ہے جہاں مغوی اور دو اغوا کار اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہیں۔ ڈیفنس پولیس اسٹیشن کے سابق ایس آئی او محمد وسیم ابڑو کے مطابق مجسٹریٹ نے کہا کہ اگر تینوں نائجیرین باشندے واپس جانا چاہتے ہیں تو انہیں واپس جانے دیا جائے، یہ ہی وہ پوائنٹ ہے جہاں سے اصل کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔

رہائی ملنے کے بعد تینوں نائجیرین منظر عام سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ادیب شاہ اور حاجی عمران تاحال جیل میں ہیں۔ ادیب شاہ ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتا ہے کہ اگر مدعی مقدمہ ہی فرار ہو گیا ہے تو وہ اب تک جیل میں کیوں سڑ رہا ہے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے رک جاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ یہ کس قسم کی انوسٹیگیشن ہے۔ مدعی کہاں ہے؟ قانونی طور پر رہا ہونے والے نائجیرین کوان کی ایمبیسی کے حوالے کیا جانا تھا۔ چیف جسٹس فورا ایڈدیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن اور ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف کو طلب کرتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ اس کیس کودوبارہ کھولا جائے، تحقیقات کی جائیں اور رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈی آئی جی ویسٹ عاصم قائمخانی کی سربراہی میں اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بناتے ہیں، کمیٹی میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن ساوتھ عمران مرزا اور ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل عبداللہ احمد ممبر ہوتے ہیں۔ انکوائری کمیٹی اپنا کام شروع کرتی ہے اور اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ایس آئی او ڈیفنس محمد وسیم ابڑو جھوٹ بول رہے ہیں۔

رہائی پانے والے نائجیرین کون تھے؟؟

ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل عبداللہ احمد کے مطابق رہائی پانے والے نائجیرین انٹرنیشنل منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھے، یہ نیٹ ورک افغانستان سے نائجیریا تک پھیلا ہوا ہے، اس نیٹ ورک کے کچھ باشندے مشرق وسطی میں بھی مقیم ہیں جہاں منشیات کی منتقلی کے بعد رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

افغانستان میں بڑی مقدارمیں منشیات کی پیداوار ہوتی ہے لیکن اس کے پاس اپنا ساحل نہیں اسی لیے منشیات کی دنیا بھر میں اسمگلنگ کے لیے پاکستان کی بلوچستان میں واقع ساحلی پٹی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ منشیات پہلے بلوچستان کے علاقوں جن میں تربت، گوادر اور مکران شامل ہیں، پہنچائی جاتی ہے جہاں سے اسے یورپ اور افریقی مملک تک بزریعہ سمندری راستے پہنچایا جاتا ہے۔

اسمگلنگ کے اس غیرقانونی کاروبار میں مچھیرے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ منشیات کو مچھلی پکڑنے والے لانچ اور کشتیوں کی مدد سے مکران ڈویژن میں واقع ساحلی پٹی سے سمندر میں بھیجاجاتا ہے اور پھر کھلے سمندر میں منشیات اسمگلرز کے حوالے کر دی جاتی ہیں اور پھر مچھیرے مچھلیاں پکڑنے کے ساتھ ہی واپس ساحل پر آ جاتے ہیں۔ایک پولیس افسر، جو منشیات اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورک پر کام کر رہا ہے، اس نے بتایا کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف اآئی اے، کے ساتھ مل کر منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کی ترسیل پر کام کر رہا ہے۔ اس افسر کے مطابق اسمگلنگ کے کاروبار سے وابسطہ افراد نے مشرق وسطی میں رقم کی منتقلی کا سیٹ اپ بنا رکھا ہے جہاں پر خریدار منشیات مقام پر پہنچنے کے بعد رقم منشیات بھجنے والےکے حوالے کرتا ہے اور پھر یہ رقم حوالہ، ہنڈی کے ذریعے پاکستان منتقل کر دی جاتی ہے۔ رقم کی وصولی پر مامور ایجنٹس کا سفری ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ دبئی، مسقط، اومان اور قطر تواتر سے آتے جاتے ہیں۔

جب بھی نائجیریا کے خریداروں سے منشیات کی اسمگلنگ کی ڈیل ہوتی ہے تو رقم کی ادائیگی کی گارنٹی کے لیے اسمگلرز نائجیرین باشندوں کو پاکستان بھیج دیتے ہیں۔ یہاں پر اگوجی کا ذکر ضروری ہے کیوں کو اس کو بھی، پولیس کے مطابق، رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کے طور پر ناجیرین اسمگلرز نے کراچی بھیجا تھا۔ انڈر ورلڈ کے اصول کے مطابق رقم کی یقین دہانی کے طور پر بھیجے جانے والے افراد کو لگژری رہائش دی جاتی ہے۔ یہ افراد اس وقت تک منشیات بھیجنے والے کے قبضے میں رہتے ہیں جب تک منشیات خریدار کے پاس نہ پہنچ جائے اور خریدار منشیات کی رقم اسے بھیجنے والےکو منتقل نہ کر دے۔ اگوجی کے کیس میں بھی اسے منشیات کی رقم، جو کہ پچاس ہزار ڈالرز بتائی جاتی ہے، کی عدم ادائیگی پر یرغمال بنایا گیا تھا۔

سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی سی آئی اے عارف حنیف نے بتایا کہ اگوجی اور اس کے ساتھیوں کے مبینہ اغوا کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ منشیات اسمگلنگ کے جس گروہ سے وہ منسلک تھے، انہوں نے پہلی شپمنٹ ہونے کے بعد منشیات بھیجنے والے گروہ کو رقم کی ادائیگی نہیں کی جس پر اگوجی اور اس کے دو ساتھیوں کر یرغمال بنایا گیا۔ ڈی آئی جی سی آئی اے نے مزید بتایا کہ نائجیرین اسمگلرز نے پاکستانی اسمگلرز سے رقم کی منتقلی کو منشیات کی دوسری کھیپ کی منتقلی سے مشروط کیا لیکن پاکستانی اسمگلرز نے نائجیرین اسمگلرز کی شرط مسترد کر دی اور کہا کہ وہ نائجرین باشندوں کو رقم کی منتقلی تک رہا نہیں کریں گے۔

یہاں نائجیرین سمجھے کہ وہ رقم کی عدم ادایئگی پر بھی ساتھیوں کو پاکستانی اسمگلرز کے چنگل سے آزاد کروا لیں گے۔ بین الاقوامی نمبر سے کراچی پولیس کے کمپلین نمبر پر کال کی گئی جس پر ایکشن لیتے ہوئے پولیس نے اگوجی اور اس کے دو ساتھیوں کو بازیاب کروا لیا۔ نائجرین اسمگلرز کو اس بات کا علم تھا کہ اگر پولیس ان کو بازیاب کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ باآسانی پاکستان سے فرار ہو سکتے ہیں۔

ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل عبداللہ احمد کے مطابق جیسے ہی پولیس نے نائجیرین کو ڈیفنس فیز سیون میں چھاپا مار کر رہا کروایا، تو بنگلے میں موجود حاجی عمران نے اپنے گروہ کو پولیس چھاپے اور نائجیرین کی بازیابی کی اطلاع دے دی۔ معاملے کو سلجھانے کے لیے کشمور کے سردار دلبر ملانو کو کراچی بھیجا۔

ایس ایس پی عبداللہ احمد کے مطابق دلبر ملانو کو ٹاسک دیا گیا کہ نائجیرین کی کورٹ میں پیشی کے بعد ان کی کسٹڈی لی جائے۔ دلبر ملانو نے اپنے فرنٹ مین ’جانی‘ کے ذریعے پولیس سے رابطہ کیا۔ اس نے ایس ایچ او محمد علی نے ایس آئی او محمد وسیم ابڑو سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ’پیسے والا کام آیا ہے‘  جس پر ایس ایچ اواور ایس آئی او نے نائجیرین کی حوالگی پر ایک کرروڑ روپے کی ڈیل کی، ڈیل کی رقم ہائی وے پر واقع ایک ریسٹورنٹ میں نوٹوں سے بھرے بیگ کی صورت میں کی گئی۔

اب اصل چیلنج یہ تھا کہ نائجیرین کو رہائی کے بعد ملک سے باہر جانے کے بجائے پاکستانی اسمگلرز تک بحفاظت پہنچا دیا جائے، ایس ایچ او محمد علی کو پتہ تھا کہ نائجیرین باشندے کو واپسی پاکستانی اسمگلرز تک کیسے پہنچانا ہے چونکہ پولیس کو انٹرنیشنل نمبر سے کال کر کے غیرملکیوں کے اغوا کے بارے میں بتایا گیا اور شکایت درج کرنے والا مقدمے کے اندراج کے لیے میسر نہ تھا، اس پوزیشن میں پولیس کو ریاست کو مدعی بناتے ہوئے مقدمہ درج کرنا تھا مگر ایس ایچ او نے اگوجی کو ہی مدعی مقدمہ بنا دیا۔ ایس ایچ او جانتا تھا کہ اگر اگوجی رہائی کے بعد غائب کر دیا جائے تو پاکستانی اسمگلرز کے گرفتار ہونے والے دو باشندے، ادیب شاہ اور حاجی عمران، بھی مدعی کی عدم موجودگی پر عدالت سے رہا ہو جائیں گے۔

ایس ایس پی عبداللہ احمد نے بتایا کہ جب مجسٹریٹ نے ایس آئی او کو ںائجیرین کی رہائی کا پروانہ جاری کیا تو قانون کے مطابق رہائی پانے والے غیرملکیوں کو ان کی ایمبیسی کے حوالے کیا جانا تھا مگر ایس آئی او نے ان کو ایک حلف نامے پر دلبر ملانو کے حوالے کر دیا اور 18 کو غیرملکی باشندوں کو باراستہ سندھ بلوچستان منتقل کر دیا گیا۔ ایف آئی کے ریکارڈ کے مطابق دلبر ملانو کے حوالے کئے گئے غیر ملکیوں میں سے ایک ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا ہے جب کہ اس کے دو ساتھیوں کا کچھ پتا نہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔ ایس ایس پی عبداللہ احمد کے مطابق چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس عمر سیال نے انٹرنیشنل منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کو بےنقاب کرنے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی اور حکم دیا کہ اس نیٹ ورک کے ماسٹر مائنڈ اور کارندوں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

دلبر ملانو نے 8 مارچ تک ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔ اس نیٹ ورک سے منسلک تین مزید افراد سلیم رند، عابد اور دادشاہ کو پولیس گرفتار کر چکی ہے۔ بلوچستان پولیس، ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس فورس اور سیکیورٹی اداروں سے وابسطہ افسران منشیات کے اس نیٹ ورک پر کام کریں گے اور اس گھناونے کاروبار سے منسلک افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں گے۔اب تک تحقیقات میں میں جو حقائق سامنے آئے وہ بیان کر دئیے گئے ہیں تاہم تحقیقات مکمل ہونے پر اس نیٹ ورک سے جڑے مزید حقائق بھی بیان کیے جائیں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube