Monday, April 12, 2021  | 28 Shaaban, 1442

سینیٹ:صوبوں، اسلام آباد کےنمائندوں کی تعداد،مدت

SAMAA | - Posted: Mar 2, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Mar 2, 2021 | Last Updated: 1 month ago

جانیے نشستوں کی تفصیل اس رپورٹ میں

قومی اسمبلی ميں تو ہر صوبے کو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے سيٹيں ملتی ہيں ليکن ايوان بالا يا سينيٹ ميں تمام صوبائی اکائيوں کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے يعنی سینیٹ میں ہر صوبے کے تئیس تئیس ارکان ہوتے ہيں جن ميں سے 14 عمومی ارکان، 4 خواتين، 4 ٹيکنوکريٹ اور ايک اقليتی رکن ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں سینیٹ میں اسلام آباد سے 4 ارکان ہوتے ہيں جن ميں سے 2عمومی ايک خاتون اور ايک ٹيکنوکريٹ نشست رکن کی نشست ہوتی ہے۔

سینیٹر کی آئینی مدت 6 برس ہے اور ہر 3 برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے اراکین منتخب ہوکر آتے ہیں۔ فاٹا کے انضمام کے بعد اس بار 48 نشستوں پر اليکشن ہو رہے ہيں۔

خيبر پختونخوا اور بلوچستان سے بارہ بارہ سينيٹر منتخب ہوں گے جن ميں 7 عمومی 2 خواتين، 2 ٹيکنو کريٹ اور ايک اقليتی رکن شامل ہے۔

پنجاب اور سندھ سے گيارہ گيارہ ارکان کا انتخاب کيا جارہا ہے جن ميں 7 عمومی، 2 خواتين اور 2 ٹيکنو کريٹ نشستيں شامل ہيں۔

اسلام آباد سے 2 ارکان ایوان بالا کا حصہ بنیں گے۔ ويسے تو سينيٹ انتخابات ميں پوائنٹ کا نظام خاصا پيچيدہ ہے لیکن ہم اپنی آساني کے ليے کہہ سکتے ہيں کہ پنجاب اسمبلی ميں 53 ووٹوں پر ايک سينيٹر منتخب ہوتا ہے۔ سندھ اسمبلی سے سينيٹر منتخب ہونے کے ليے 24 ووٹ درکار ہوتے ہيں۔ خيبرپختونخوا اسمبلی ميں 18ووٹوں سے ايک سينيٹر بنتا ہے۔ بلوچستان اسمبلی سے سينيٹ کا رکن بننے کے ليے 9 ووٹوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جبکہ اسلام آباد سے سينيٹر بننے کے ليے 171 ووٹ چاہيے ہوتے ہيں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube