ویڈیو: پہاڑ کی چوٹی پر موجود تاریخی قلعہ نندنہ

SAMAA | - Posted: Mar 1, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Mar 1, 2021 | Last Updated: 1 month ago

قلعہ نندنہ میں البیرونی ٹریل ہیریٹیج کا افتتاح

قلعہ نندنہ بنیادی طور پر ضلع جہلم میں ہے، جب کہ اس کے ساتھ ضلع چکوال کی سرحد لگتی ہے۔ سنسکرت میں نندنہ کا مطلب ’’بیٹا‘‘ ہے اس قلعے کا نام اِندرَ دیوتا کے دیو مالائی باغ کے نام پر رکھا گیا ہے۔

قلعہ نندنہ کا راستہ گاؤں باغ والاں تک گاڑی یا موٹر سائیکل سے طے کیا جا سکتا ہے، جب کہ آگے کا راستہ پیدل چل کے طے کیا جاتا ہے۔ اس راستے میں خوبصورت مناظر، دلکش جھرنے، خوبصورت آبی راستے جو اپنی دلکشی کی مثال آپ ہیں۔

قلعہ نندنہ 10ویں صدی عیسوی کی تعمیر ہے۔ جس کا رقبہ 45 کنال 16 مرلے ہے۔ چوآسیدن شاہ سے ایک تنگ پتھریلا راستہ قلعہ نندنہ کے آثار تک لے جاتا ہے۔ جو 1500 فٹ تک بلند ہے۔

اس میں ایک شہر اور مندر کے آثار ہیں۔ اس پر ہندو شاہی سلسلے کے راجا 11ویں صدی تک حکمران رہے، جنہیں محمود نے یہاں سے مار بھگایا۔ اس کے اندر ہندو شاہی راجا انند پال کے بیٹے جے پال نے شیو کا مندر تعمیر کرایا گیا تھا۔

ابو ریحان البیرونی نے اسی مقام پر کھڑے ہو کر ہاتھ کی ایک چھڑی کے ذریعے پورے کرۂ ارض کا قطر ناپا تھا، جس میں موجودہ قطر سے 43 فٹ کا فرق ہے۔

یہ راستہ سکندر کی افواج نے بھی دریائے جہلم کو پار کرنے کیلئے اختیار کیا، جو اس نے جلالپور (بوکے قالیہ) سے پار کیا اور یہ علاقہ بھیم پال اور محمود غزنوی کی فوجوں کے درمیان 1014ء میں میدان جنگ بنا۔

محمود غزنوی کا قبضہ قلعہ نندنہ پر ہوا تو یہاں اس نے ساروغ کو کوتوال مقرر کیا۔

نندنہ قلعہ کا ذکر تاریخ میں 991ء میں ملتا ہے جب لاہور کے راجا نے 999ء میں مشرق کی طرف سے حملہ کی کوشش کی، تو 13ویں صدی کے شروع میں اس پر قمرالدین کرمانی کا قبضہ تھا جس سے جلال الدین خوارزمی نے قلعہ کا قبضہ لیا۔

جلال الدین خوارزمی کو چنگیز خاں نے 1021ء میں دریائے سندھ کے کنارے شکست دی تو اسی کے امیر ترقی کے زیر تسلط یہ قلعہ آیا۔

اس قلعے کی مسجد میں نماز کی جگہ اور صحن موجود ہے اس کے آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پرانے آثار زیر تعمیر شدہ مسجد ہے یہاں پر ایک کتبے کا کچھ حصہ بھی ہے جو بہت مشکل سے پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ تین آثار بدھ سٹوپا کے بھی ہیں جو ساتویں یا آٹھویں صدی کے ہیں اور مسلمانوں کی قبریں مغربی ڈھلوان پر نمایاں ہیں جن پر کوئی کتبہ نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے گزشتہ روز 28 فروری کو اس اہم سیاحتی مقام کے دورے پر اسے سیاحتی مقام بنانے کا اعلان کیا گیا، جہاں پوری دنیا سے سیاح آئیں گے نندنہ قلعہ کوماڈل ولیج بنا کر تعمیر کرنے ‏کا فیصلہ کیا گیا۔ سیاحوں کے لئے یہاں رہنے کے انتظامات کئے جائیں گے، جب کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ ‏کے تحت ہوٹل اور ریزارٹس بھی بنائے جائیں گے۔

نوٹ: یہ معلوماتی ویڈیو وزیراعظم آفس کے سوشل میڈیا ونگ سے جاری کی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube