Thursday, June 17, 2021  | 6 ZUL-QAADAH, 1442

سندھ میں سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ تاحال نافذ نہیں ہو سکا

SAMAA | - Posted: Feb 25, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 25, 2021 | Last Updated: 4 months ago

فوٹو: ٹوئٹر

صوبہ سندھ میں 5سال گذر جانے کے باوجود سندھ سینئر سٹیزنز ویلفیئر ایکٹ نافذ نہ ہو سکا جس کے تحت 60 برس سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے شیلٹر ہومز، ہیلپ لائن سروس اور آزاد کارڈ کے ذریعے رعایتی علاج معالجے، ادویات کی فراہمی، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر بنیادی ضروریات کے حوالے سے مراعات فراہم کیا جانا تھا۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں گزشتہ روز سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور ہیلپ ایج انٹر نیشنل کے زیر اہتمام بزرگوں کے حقوق کے تحفظ اور آگاہی کے حوالے سے میڈیا کے کردار پر ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میں سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے پروجیکٹ کی فوکل پرسن عروسہ کھٹی نے بزرگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آرگنائزیشن کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

عروسہ کھٹی نے سینئر سٹیز نز ویلفیئر ایکٹ 2014ء کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے بزرگ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سن 2014 میں قانون سازی کی اورسن 2016 میں اسے سندھ اسمبلی منظور کیا تاہم ابھی تک اس ایکٹ کا نفاذ نہیں کیا جاسکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بزرگ شہریوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور یہ معاملہ سنگین صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے جس کے لیے عوامی آگاہی پروگرام کے فروغ کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا نے بزرگ شہریوں کو معاشی، معاشرتی اور صحت کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اور اس حوالے سے سنیئر سٹیزنز کی بہبود کے لیے حکومت سندھ بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ڈسٹرکٹ کی سطح پر بزرگ دوست نیٹ ورک کی تشکیل کی گئی ہے تاکہ اِن کے مسائل کے حل کے لیے کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سندھ صوبہ کے ہر ڈویڑن میں شیلٹر ہوم بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور ہیلپ ایج انٹر نیشنل کی مشاورت سے اس ایکٹ کے رولز آف بزنس بھی مرتب کیے چکے ہیں۔

ایس آر ایس او کے پروجیکٹ کوآرڈینٹر مختیار کپری نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کی صوبہ کے سماجی مسائل کے حل اور بزرگ شہریوں کی بہبود کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور بزرگ شہریوں کے انسانی حقو ق کے حوالے سے میڈیا کے کردار کی اہمیت کو واضح کیا۔

ہیلپ ایج انٹرنیشنل کے ٹیکنیکل پرسن سید سجاد علی شاہ کا کہنا تھا سن 2017 میں پاکستان میں بزرگ شہری کل آبادی کا 6.5 فیصد تھے جس میں سن 2050 تک 12 فیصد اضا فہ ہونے کا امکان ہے اس لیے ضروری ہے کہ ہم بزرگ شہریوں کے حقوق کے لیے عوامی آگاہی مہم چلائیں تاکہ لوگوں میں سینئر سٹیزنز کی بہبود کے لیے جذبہ پیدا کیا جاسکے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ پاکستان کے 3 صوبوں خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور صوبہ سندھ میں سینئر سٹیزنز ایکٹ پاس ہوچکا ہے جس کے عملی نفاز کے لیے ہم میڈیا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر جدوجہد کررہے ہیں۔

ورکشاپ سے سماجی کارکن طاہرہ بلوچ اور پروجیکٹ کے ایڈوکیسی اینڈ کمیونیکیشن آفیسر عبدالقدوس نے بھی خطاب کیا۔

ورکشاپ میں دیگر صحافیوں کے ساتھ منیر عقیل انصاری،مونا خان،عبدالرزاق سروہی،عبدالصمد تاجی،ضیائقریشی،مظر رضا،محمد قمرخان،شائستہ جلیل،سید محموداللہ،سرفرازاحمد،کامران شیخ نے بھی شرکت کی جنہوں نے اس سلسلے میں جدوجہد تیز کر نے کے عمل میں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اس موقع پر ہیلپ ایج انٹر نیشنل نے اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات کے حوالے سے شرکاء کو پروجیکٹر کی مدد سے بریفینگ بھی دی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube