خیبرپختونخواسے اپوزیشن کے 4سینیٹرزکیخلاف ایف آئی اے تحقیقات کا فیصلہ

SAMAA | - Posted: Feb 25, 2021 | Last Updated: 3 months ago
Posted: Feb 25, 2021 | Last Updated: 3 months ago

ويڈيو اسکينڈل کی انکوائری کمیٹی نے خيبرپختونخوا سے اپوزيشن کے 4 سينيٹرز کیخلاف کيسز ايف آئی اے کو بھيجنے کا فيصلہ کرليا۔ سينيٹرز ميں مشتاق احمد، روبينہ خالد، دلاور خان اور بہرہ مند خان شامل ہيں۔

سینیٹ انتخابات 2018ء ميں گھپلوں کی ويڈيو کے معاملے کی تحقیقات کرنیوالی حکومتی وزراء کی انکوائری کميٹی نے اپوزيشن کے 4 سينيٹرز کیخلاف کيسز ايف آئی اے کو بھيجنے کا فیصہ کرلیا۔

خيبرپختونخوا سے منتخب ہونيوالے سينيٹرز روبينہ خالد اور بہرہ مند خان کا تعلق پيپلز پارٹی جبکہ مشتاق احمد جماعت اسلامی اور دلاورخان کا نون ليگ سے ہے، چاروں سينيٹرز سے پوچھا جائے گا کہ سينيٹر بننے کیلئے مطلوبہ ووٹس نہ ہونے کے باوجود وہ کيسے منتخب ہوگئے، ایم پی ایز کو کروڑوں روپے دیئے جانے کی ويڈيو سے ان کا کيا تعلق ہے؟۔

سماء سے بات کرتے ہوئے سينيٹر مشتاق احمد نے کہا کہ يہ تو اچھی بات ہے، اس سے جو دوسرے سينيٹ انتخابات ميں گھپلے ہوئے وہ بھی سامنے آئيں گے، جن ميں چوہدری سرور کا سينيٹر منتخب ہونا اور چيئرمين سينيٹ کیخلاف تحريک عدم اعتماد ناکام ہونا شامل ہيں۔

مزید جانیے: وائرل ویڈیو میں ووٹ فروخت کرنے والے ارکان کون ہیں

ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی کی جانب سے پہلے ہی ان چاروں سينيٹرز کو نوٹسز بھيجے جاچکے ہيں۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں انہیں رقم لیتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف نے 2018ء میں سینیٹ انتخابات کے بعد اپنے 20 اراکین کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں ووٹ بیچنے کے الزام میں پارٹی سے نکال دیا تھا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube