پی ٹی آئی رہنماکااپنی ہی پارٹی پرسينيٹ ٹکٹ بيچنے کاالزام

SAMAA | - Posted: Feb 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سیف اللہ کا لیاقت جتوئی کو 2کروڑ روپے ہرجانہ کانوٹس

تحریک انصاف کے رہنما لياقت جتوئی نے اپنی ہی پارٹی کے رکن سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ کا ٹکٹ 35 کروڑ میں بیچا گيا۔

دادو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لياقت جتوئی نے الزام لگایا کہ کہا گورنر ہاؤس کے ڈرائنگ روم ميں بيٹھ کر فيصلے کيے جا رہے ہيں۔ گورنر ہاؤس اور وہاں بيٹھے دو تين لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اُنہوں نے پارليمانی بورڈ کيوں نہيں بنايا؟ درخواستيں کيوں نہيں ليں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ سيف اللہ ابڑو 6 ماہ پہلے پارٹی ميں آئے لیکن اُن کا ميرٹ کيا ہے؟ انہوں نے فيصل واوڈا کو ٹکٹ دينے پر بھی سوال اُٹھايا اور کہا کہ فيصل واوڈا ايم اين اے بھی ہيں، وزير بھی ہيں اور اب سينيٹ کا ٹکٹ بھی۔ کيا ہمارے سندھ ميں کوئی اس قابل نہيں۔

الیکشن ٹریبونل نےسیف اللہ ابڑوکوسینیٹ الیکشن سےروک دیا

لياقت جتوئی کا کہنا تھا کہ ہميں نظر انداز کيا گيا تو احتجاج کريں گے اور پارٹی کے اندر رہ کر مفاد پرستوں کی رخصتی کرائيں گے۔ يہ پانی پت کی لڑائيی ہے جسے ہم ہی جيتيں گے۔ رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام آپشنز کھلے ہيں اور 26 تاريخ کو اجلاس ميں آئندہ کا لائحہ عمل طے کريں گے۔

دوسری جانب لیاقت جتوئی کے الزامات پر سیف اللہ ابڑو نے لیگل نوٹس بھیج دیا۔ سيف اللہ ابڑو کا کہنا ہے کہ لياقت جتوئی 35کروڑ روپے ديکر سينيٹ سيٹ حاصل کرنے کا الزام ثابت کريں ورنہ 2 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کريں۔

واضح رہے کہ 22 فروری کو الیکشن ٹریبونل نے پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ سیف اللہ ابڑو کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں درخواست غلام مصطفیٰ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

سال 2018 کے الیکشن میں سیف اللہ ابڑو این اے 201 لاڑکانہ 2 کی سیٹ پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے تھے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube