بچوں پرتشدد کی ممانعت کا بل قومی اسمبلی سے منظور

SAMAA | - Posted: Feb 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 23, 2021 | Last Updated: 3 months ago

فائل فوٹو

قومی اسمبلی نے بچوں پر جسمانی و ذہنی تشدد کی ممانعت کا بل منظور کرلیا، بچوں کے نگہداشت کے مراکز، تعلیمی اداروں اور گھروں میں بچوں کو جسمانی سزا پر پابندی عائد کردی گئی، اطلاق اسلام آباد کی حد تک ہوگا۔

حکومت نے مار نہیں پیار کے فلسلفے پر کام شروع کردیا، بچوں پر ہاتھ اٹھائیں نہ بال کھینچیں، کسی قسم کی جسمانی یا ذہنی اذیت دینے سے بھی باز رہیں، ورنہ قانون حرکت میں آئے گا۔

بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز، نجی و سرکاری تعلیمی اداروں، کام کرنے کی جگہوں یا گھروں میں بچوں کی جسمانی سزا پر پابندی ہوگی، خلاف ورزی پر سزا بھی ملے گی۔

قومی اسمبلی نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کی ممانعت کیئے احکامات وضع کرنے کا بل منظور کرلیا

بل کے مطابق بچوں کو تھپڑ، جوتے یا چھڑی سے مارنا، گرم مصالحے نگلنے پر مجبور کرنا قابل سزا جرم ہوگا۔

بل لیگی رکن اسمبلی مہناز اکبر نے پیش کیا، ڈاکٹر شیریں مزاری کی ترمیم کو بل کا حصہ بنالیا گیا۔

وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ اس سے قانونی عمل کا آغاز ہوگا، حکومت کمیٹی یا کمیشن بنا دے، بل کی ایک شق میں ترمیم چاہتے ہیں۔

بچوں پر تشدد میں ملوث افراد کو تنخواہوں میں کٹوتی، جبری ریٹائرمنٹ سمیت ملازمت سے برطرف کرنے تک کی انتہائی سزا دی جاسکے گی۔ بل کا اطلاق صرف اسلام آباد میں بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیمی اداروں کی حد تک ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube