Sunday, April 11, 2021  | 27 Shaaban, 1442

پریزائیڈنگ افسران نے انتخابی نتائج میں گڑبڑ کی، ریٹرننگ آفیسر

SAMAA | - Posted: Feb 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Feb 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ریٹرننگ آفیسر نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے 14 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی تجویز دیدی۔ ان کا کہنا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران نے نتائج میں گڑبڑ کی ہے۔

این اے 75 ڈسکہ میں جمعہ 19 فروری کو ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ ہوئی، اس دوران پرتشدد واقعات میں 2 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے، کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل بھی روک دیا گیا تھا، انتخابی نتائج میں تاخیر کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نتائج روک دیئے تھے۔

ریٹرننگ آفیسر نے الیکشن کمشنر پنجاب کی جانب سے 8 پریزائیڈنگ افسران کے انٹرویوز کے بعد ڈسکہ کے 14 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی تجویز دی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈسکہ میں ضمنی انتخاب، فائرنگ سے 2 افرادجاں بحق

ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ پریزائیڈنگ افسران انٹرویو کے دوران ’’حیران اور خوفزدہ پائے گئے‘‘ اور انہوں نے ’’بے سرو پا بہانے بنائے کہ نقل و حمل میں مشکلات تھیں، واٹس ایپ کام نہیں کررہا تھا، وغیرہ۔

رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار نے حلقے کے 340 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اس کے نتائج بدستور برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے۔

البتہ درخواست گزار اور پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے جمع کرائے گئے 14 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے موازنے میں واضح فرق دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید جانیے: ڈسکہ الیکشن میں مبینہ دھاندلی، سماعت عوام کے سامنے کرنیکامطالبہ

ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ کے مطابق پہلی نظر میں ظاہر ہوتا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے نتائج میں گڑبڑ کی گئی اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ مذکورہ پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔

این اے 75 ڈسکہ میں مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار اور پاکستان تحریک انصاف کے اسجد ملہی کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔

ن لیگ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 150 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 میں سے 10 پر ہی انگوٹھوں کے نشان ہیں۔

لیگی امیدوار اور درخواستگزار نوشین افتخار نے کہا ہمارے کارکنوں پر ڈی ایس پی احسان نے تشدد کروایا، مجھے کہا اگر زبان کھولی تو گولی ماردوں گا۔

دوسری جانب آج اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے این اے 75 کے حالیہ ضمنی انتخاب میں امن و امان کی صورتحال خراب کی، وزیراعظم نے 23 پولنگ اسٹیشنوں میں دوبارہ انتخاب کیلئے پاکستان مسلم لیگ ن کی درخواست پر اہم اعلان کیا ہے، عمران خان نے ہمیشہ چیلنجوں کو قبول کیا، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube