وزیرستان میں قبائلی عمائدین کے بعد اب خواتین نشانہ

SAMAA | - Posted: Feb 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago

خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے گاڑی پر فائرنگ کرکے فلاحی تنظیم سے وابستہ 4 خواتین کو قتل اور ڈرائیور کو زخمی کردیا ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خواتین کو میرعلی بازار سے چند کلومیٹر دور واقع گاؤں ایپی میں صبح 9 بجے نشانہ بنایا گیا۔ چاروں خواتین ایک فلاحی تنظیم کے زیر اہتمام مقامی خواتین کو دستکاری اور سلائی کی تربیت دیتی تھیں۔

واقعہ کے بعد پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن لانچ کیا ہے مگر ابھی تک حملہ آوروں کا کوئی پتہ نہ چل سکا۔

طالبان دھڑوں کا اتحاد

شمالی وزیرستان ایک وقت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ تصور کیا جاتا رہا ہے مگر آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں تنظیم تتر بتر ہوگئی اور شدت پسندوں نے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لی جہاں سے وہ کراس بارڈر حملے کرتے رہے۔

گزشتہ برس اگست میں طالبان کے مختلف دھڑے افغانستان میں دوبارہ یکجا ہوئے اور آپس کے اختلافات بھلاکر مفتی نور ولی محسود کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ تحریک طالبان دوبارہ سر اٹھاسکتی ہے۔ وزیرستان کے لوگ مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں کہ ان کے علاقوں میں طالبان دوبارہ منظم ہورہے ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

سماء ڈیجیٹل کی مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے جنوری میں 17 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں 13 قبائلی اضلاع، 3 بلوچستان اور ایک راولپنڈی میں کیا گیا۔

اسی طرح فروری میں کالعدم تنظیم کی جانب سے فروری میں 13 حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی جو سارے خیبرپختونخوا میں ہوئے۔

خواتین کو کیوں نشانہ بنایا گیا

افغانستان کی سرحد پر واقع ہونے کے باعث شمالی وزیرستان نہ صرف طالبان بلکہ ڈرگ لارڈز سمیت دیگر جرائم پیشہ گروہوں کیلئے بھی محفوظ پناگاہ کی حیثیت رکھا ہے۔

مقامی سماجی کارکنان کی جمع کئی گئی اعداد و شمار کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن ردالفساد کے آغاز سے لیکر آج تک ٹارگٹ کلنگ کے 290 واقعات ہوئے ہیں مگر ان حملوں میں خواتین کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا بلکہ زیادہ تر نشانہ مقامی عمائدین، امن کمیٹی کے ارکان اور سیاسی کارکنان رہے ہیں۔

پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پیس اینڈ کنفلکٹ اسٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر حسین شہید سہروردی نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز علاقوں میں این جی اوز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سخت گیر مذہبی گروہ این جی اوز کو ’فحاشی و عریانی‘ سے جوڑ کر لوگوں کو ان کے خلاف ابھارتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کا ایک مخصوص قدامت پسند طبقہ خیبرپختونخوا میں انضمام کا اس لیے بھی مخالف تھا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے کے بعد وزیرستان میں بھی ’اسلام آباد اور لاہور جیسا‘ ماحول بن جائے گا۔ یہ گروہ خواتین کی نقل و حرکت اور گھر سے باہر نکلنے کو ’فحاشی و عریانی‘ سمجھتا ہے۔

حسین شہید سہروردی کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں یہ این جی اوز کیلئے وارننگ ہے اور اس دلخراش واقعہ کے بعد دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی بحالی پر مامور غیرسرکاری تنظیمیں قبائلی اضلاع سے نکل جائیں گی۔

جس گاؤں میں یہ یہ لرزہ خیز واردات ہوئی، وہاں کے رہائشی عادل داوڑ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ قتل ہونے والی خواتین کافی عرصے سے یہاں سرگرم عمل تھیں اور وہ علاقے کے کلچر کے حساب سے برقعہ پہن کر آتی تھیں۔ جس وقت ان کو گولیاں ماری گئیں تب بھی وہ برقعے میں تھیں۔

عادل داوڑ کے مطابق مقامی لوگ اس واقعہ پر انتہائی رنجیدہ ہیں اور صبح سے ہی پورے گاؤں میں غم و غصے کے ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان نے ایک بیان کے ذریعے واقعہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور تاحال کسی بھی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

سماجی کارکن ثنا اعجاز کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل مقصد توجہ حاصل کرنا ہوتا ہے اور قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے اتنے واقعات ہوئے ہیں کہ 4،5 افراد کا قتل قومی سطح پر بھی خبر نہیں بن پاتی جبکہ خواتین چونکہ سافٹ ٹارگٹ ہے اور خواتین پر حملہ بڑی توجہ حاصل کرسکتا ہے، اس لیے دہشت گردوں نے این جی او کی خواتین ورکرز کو نشانہ بنایا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube