وزیرستان:نامعلوم افراد کی گاڑی پر فائرنگ،4 خواتین قتل

SAMAA | - Posted: Feb 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 22, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فائل فوٹو

شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے 4 خواتین کو قتل کردیا۔

پولیس کے مطابق قتل کی گئی چاروں خواتین مقامی تربیتی مرکز سے تعلق رکھتی ہیں، جو مرکز کی جانب جا رہی تھی کہ انہیں راستے میں روک کر ٹارگٹ کیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان کے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس کی جانب سے جاں بحق خواتین کا تعلق صباون این جی او سے بتایا گیا ہے، تاہم این جی او نے خبر کی تردید کی ہے۔

حملے میں گاڑی کا ڈرائیور بھی شدید زخمی ہوا، جسے فوری طبی امداد، جب کہ لاشوں کو ضروری کارروائی کیلئے ٹی ایچ کیو اسپتال میر علی منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گاؤں ایپی کےقریب پیش آیا۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔

جاں بحق خواتین اور زخمی ڈرائیور کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے بنوں سے ہے۔

دوسری جانب صباون این جی او کی جانب سے اس خبر کی تردید کی گئی ہے جس میں جاں بحق خواتین کا تعلق ان کے مرکز سے بتایا گیا ہے۔ سماء ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں صباون این جی او کے کو آرڈینیٹر ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ جاں بحق خواتین کا تعلق ان کی این جی او سے نہیں ہے۔ ان کا تمام اسٹاف خیریت سے اور دفتر میں موجود ہے۔

مقامی رہائشی عادل داوڑ نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ وہ سو رہے تھے، ان کی بیگم نے جگا کر بتایا کہ گھر کے قریب فائرنگ ہوئی ہے۔ وہاں جاکر دیکھا تو برقعہ پہنی چار خواتین خون میں لت پت پڑی تھیں۔ مقامی لوگوں نے لاشوں کو اٹھایا اور اسپتال منتقل کردیا جہاں سے ان کو بنوں روانہ کیا گیا۔

عادل داوڑ نے بتایا کہ قتل ہونے والی خواتین ایک غیرسرکاری فلاحی تنظیم کا حصہ تھیں۔ وہ گاؤں کی خواتین کو سلائی کی ٹریننگ دیتی تھیں اور سلائی سیکھنے والی خواتین کو مشین سمیت دیگر لوازمات بھی فراہم کرتی تھیں۔

پاکستان آرمی نے جنوبی وزیرستان سے دہشت گردی کا صفایا کرنے کیلئے 2014 میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا جو 2017 تک جاری رہا مگر اس کے خاطرخواہ نتائج نہ نکل سکے۔ پھر 22 فروری 2017 کو آرمی نے آپریشن رادلفساد لانچ کردیا جو آج تک جاری ہے۔

مقامی سماجی کارکنان کے مطابق 2017 سے اب تک ٹارگٹ کلنگ کے 290 واقعات ہوئے ہیں جن میں علاقہ عمائدین، امن کمیٹی کے ارکان اور عام شہریوں سمیت لگ بھگ 500 افراد جاں بحق ہوئے ہیں مگر خواتین پر براہ راست یہ پہلا حملہ ہے۔ اس سے قبل خواتین کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب پیر کو آپریشن رد الفساد کے 4 سال مکمل ہونے پر پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عوام کی مدد سے دہشت گردی کو مکمل شسکت دی ہے۔ رد الفساد کے دوران 750 کلومیٹر کے علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی گئی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube