Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

ترقیاتی فنڈزکا معاملہ:جسٹس فائزکا اختلافی نوٹ سامنےآگیا

SAMAA | - Posted: Feb 20, 2021 | Last Updated: 7 months ago
Posted: Feb 20, 2021 | Last Updated: 7 months ago

اراکین اسمبلی ترقیاتی فنڈز کیس میں سپریم کورٹ کےجسٹس قاضی فائزعیسی کا اختلافی نوٹ سامنےآگیا۔ اختلافی نوٹ میں درج ہے کہ چیف جسٹس نے ٹھوس وجوہات کے بغیر جج پرجانبداری کا الزام لگایا۔وزیراعظم کا بیان آئین کیخلاف اورمقدمے کا اختتام حیران کن تھا۔وزیراعظم کے صرف آئینی اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔تمام ججز کے دستخط نہ ہونے پر مقدمہ ختم نہیں ہوا بلکہ زیرالتوا ہے۔

اراکین اسمبلی کوترقیاتی فنڈز کے اجرا کے کیس میں جسٹس قاضی فائزعیسٰی نےاخباری خبرپرنوٹس لیا اورسپریم کورٹ کا لارجربنچ بنایا گیا جس کے بعد معاملہ نمٹا بھی دیا گیا۔ تاہم کیس کے فیصلے سےجسٹس قاضی فائز عیسیٰ لاعلم رہے۔ انھوں نے اپنےاختلافی نوٹ میں درج کیاہےکہ سینیٹ الیکشن سےقبل وزیراعظم نےاراکین کوترقیاتی فنڈزدینےکاکہا۔حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ووٹوں کی خریدوفروخت کا کہ رہی ہیں۔اٹارنی جنرل نے تحقیقات کے بجائے جج کو شکایت کنندہ بنانےکی کوشش کی۔

اختلافی نوٹ میں یہ بھی درج ہے کہ تمام ججز کے دستخط ہونے تک حکمنامہ قانونی نہیں ہوسکتا۔وزیراعظم نہیں بلکہ صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔اس کیس میں دیگر13 افراد کیساتھ وزیراعظم کو بھی فریق بنایا گیا تھا۔اگروزیراعظم کوفریق بنانا وجہ تھی تو فریق بنچ کے 3 ججز بھی تھے اورسپریم جوٖیشل کونسل کا حصہ 3 ججز بھی بنچ میں شامل تھے۔تحقیقات کے بجائے سپریم کورٹ جج کو آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے روکا گیا۔

جسٹس فائزعیسیٰ کا ترقیاتی فنڈزکیس کی فائل پیش نہ کرنے پرخط

اختلافی نوٹ میں یہ بھی درج ہے کہ 5 رکنی بنچ کی تشکیل اورجسٹس مقبول باقر کو شامل نہ کرنے پر اعتراض کیا تھا۔چیف جسٹس نے بنچ کی تشکیل پر اعتراض کا تحریری یا زبانی جواب نہیں دیا۔ریکارڈ کے مطابق چیف جسٹس کے زبانی حکم پر 5 رکنی لارجر بنچ بنایا گیا۔10 فروری کے حکمنامہ میں کسی جج کو سماعت نہ کرنے کی کوئی ہدایت نہیں تھی۔اٹارنی جنرل نے بھی بنچ میں شامل کسی جج پر اعتراض نہیں کیا تھا۔واٹس ایپ پر ملنے والی دستاویزات کھلی عدالت میں ججز اور حکومتی وکلا کو دیں اور اگردستاویزات کی تصدیق نہ ہوتی تو بات وہیں ختم ہوسکتی تھی۔

جسٹس فائزعیسی نےمزید لکھا کہ حکم نامہ سینیارٹی کےلحاظ سے بھیجا جاتا ہے،بتایا جائے کہ پھر مجھ سے پہلے جسٹس اعجازالاحسن کو کیسے مل گیا،یہ بھی بتائیں کہ کیس کاحکم نامہ میڈیا کو کس نے جاری کیا۔

جسٹس فائزعیسیٰ کووزیراعظم سے متعلق کیسزنہیں سننے چاہئیں، سپریم کورٹ

جسٹس فائز عیسیٰ نے خط میں رجسٹرار سے کیس کی فائل مانگی تھی تاکہ وہ حکم نامے پر اپنی رائے دے سکیں۔ خط کی نقول چیف جسٹس اور تمام ججز کو بھی بھجوائی گئی تھیں۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کیجانب سے فنڈز دینے پر نوٹس لےلیا

سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سینیٹ الیکشن سے قبل عوامی فنڈز پارلیمنٹیرینز میں تقسیم کرنے کی تردید پر وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس نمٹاتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔

ویڈیو: ترقیاتی فنڈز پر عمران خان کا یوٹرن

فیصلےمیں کہا گیا کہ جسٹس فائزعیسیٰ نےوزیراعظم کیخلاف ایک مقدمہ دائرکررکھا ہے،اس لئے انصاف کے تقاضوں اورغیر جانبداری کے پیش نظر انہیں وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہیں سننے چاہیئں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube