Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

علی سدپارہ کی موت کی تصدیق کردی گئی

SAMAA | and - Posted: Feb 18, 2021 | Last Updated: 8 months ago
Posted: Feb 18, 2021 | Last Updated: 8 months ago

.

[caption id="attachment_2184939" align="alignnone" width="680"] فائل فوٹو[/caption]

پاکستانی کوہ پیما محمد علی سد پارہ کے بیٹے ساجد علی سد پارہ نے والد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ ان کے والد کو جنت نصیب کرے۔

اسکردو میں جمعرات 18 فروری کو صوبائی وزیر سیاحت راجہ ناصر علی خان کے ہمراہ علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کے ٹو نےعلی سد پارہ کو اپنی آغوش ميں لے ليا ہے۔ ساجد سد پارہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اللہ ميرے خاندان کو يہ صدمہ برداشت کرنے کی توفيق دے۔

انھوں نے بتایا کہ کے ٹو پر موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت، پاک افواج اور لواحقین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لاپتا کوہ پیما اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ محمدع لی سد پارہ اور ساجد سد پارہ کو سول اعزازت سے نوازا جائے گا۔ وفاقی حکومت کو اسکردو ائیر پورٹ کو محمد علی سد پارہ سے منسوب کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، جب کہ علی سد پارہ کے نام سے کوہ پیمائی کیلئے اسکول قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قومی ہیرو محمد علی سد پارہ کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور علی سدپارہ کی فیملی کی مالی معاونت کی جائے گی۔

صوبائی وزیرنے مزید کہا کہ قومی ہیرو کے بچوں کو تعلیمی اسکالرز شپ دی جائے گی۔ حادثات کا شکار ہونے والے کوہ پیماؤں کے خاندانوں کی کفالت کےلئے باقاعدہ قانون بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ موسم سرما کے دوران کے ٹو سر کرنے کی مہم جوئی کے دوران جمعہ 5 فروری کو علی سد پارہ، آئس لینڈ سے تعلق رکھنے والے جون اسنوری اور چلی سے تعلق رکھنے والے یوآن پیبلو کا اپنی ٹیم سے رابطہ منقطع  ہوگیا تھا، جس کے بعد 2 روز انتظار کے بعد ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔

والد کے زندہ بچنے کے امکانات بہت کم ہیں، ساجدسدپارہ

کوہ پیماوں کی تلاش کیلئے پاک فوج کا سرچ آپریشن بھی جاری رہا۔ علی سدپارہ کا نام ٹوئٹر ٹاپ ٹرینڈزمیں رہا اور معروف شخصیات، سیاستدانوں سمیت تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے صارفین ان کی بخیریت واپسی کیلئے دُعا کی۔

کے ٹی چوٹی سرکرنے کے دوران لاپتا ہونے والے معروف کوہ پیما علی سدپارہ کی مہم پر روانگی سے قبل کھینچی گئی آخری تصاویر بھی سامنے آئی، جسے کینیڈین فلم میکر اور فوٹوگرافر ایلیا سیکلے نے اپنے کیمرے سے بنایا تھا۔

کینیڈین فوٹوگرافرنے علی سدپارہ کے بیٹے کی بات نقل کرتے ہوئے لکھا ” ان کے بیٹے ساجد کا کہنا ہے کہ میرے والد برفانی چیتےہیں جو ناقابل یقین تیز رفتاری کے ساتھ پہاڑوں پرچڑھتے ہیں ”۔

علی سد پارہ، جان اسنوری اور جے پی موہر کی تلاش کیلئے 7 کوہ پیماؤں کی ٹیم ریسکیو آپریشن پر روانہ ہوئی اور 12 فروری کو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔

قبل ازیں کے ٹو ورچوِئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ علی سد پارہ، جان اسنوری اور جے پی موہر کی تلاش کیلئے کوہ پیمائی کی تاریخ کا غیر معمولی شرچ آپریشن جاری ہے۔ ہم پاکستانی انتظامیہ ، پائلٹس، امتیار اور اکبر کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق ممکنہ مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے نشاندہی کی گئی۔ سنتھٹک اپرچر ریڈار ٹیکنالوجی ( ایس اے آر ) کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ ریڈار کی مدد سے ہزاروں تصاویر لی گئیں۔ جس کی مدد سے کوہ پیماؤں کی روانگی کے اوقات، پلان اور مقرہ پوائنٹس کو چیک کیا ، جب کہ انہیں دوبارہ بھی دیکھا گیا۔

پریس ریلیز کے مطابق ممکنہ مقامات کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے نشاندہی کی گئی۔ سنتھٹک اپرچر ریڈار ٹیکنالوجی ( ایس اے آر ) کے ذریعے بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ ریڈار کی مدد سے ہزاروں تصاویر لی گئیں۔ جس کی مدد سے کوہ پیماؤں کی روانگی کے اوقات، پلان اور مقرہ پوائنٹس کو چیک کیا ، جب کہ انہیں دوبارہ بھی دیکھا گیا۔

ے ٹو ورچوِئل اینڈ فزیکل بیس کیمپ کے معاونین کا کہنا تھا کہ موسم کی سختی کے باعث جب ہیلی کاپٹرز کیلئے آپریشن مشکل ہوا تو پاکستان آرمی کی جانب سے ایف 16 طیاروں کو اس سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں استعمال کیا گیا۔

ایف 16 طیاروں میں لگے جدید سینسر اور طاقت ور کیمروں سے تصاویر بنائی گئیں اور علاقے کا سروے کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمیں جو تصاویر ملیں وہ سلیپنگ بیگ، سلیپنگ پیڈ اور پھٹے ہوئے ٹینٹ کی تھیں۔ تصاویر میں نظر آنے والی چیزوں میں سے کوئی بھی جے پی موہر، جان اسنوری اور علی سد پارہ نہیں تھا۔

اس ٹیکنالوجی سے سلیپنگ بیگ اور ٹینٹ کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ہم گلگت بلتستان کی حکومت کے بھی شکر گزار ہیں، جب علی سد پارہ کے رشتے دار امتیاز اور اکبر کے بھہ تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube