Sunday, November 28, 2021  | 22 Rabiulakhir, 1443

ضمنی انتخابات، تحریک انصاف کے ووٹوں میں ڈرامائی کمی

SAMAA | - Posted: Feb 17, 2021 | Last Updated: 9 months ago
Posted: Feb 17, 2021 | Last Updated: 9 months ago

پارٹی کیلئے تشویش کا باعث

سندھ اور بلوچستان میں تین نشتوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج حکمران جماعت تحریک انصاف کیلئے سوالیہ نشان چھوڑ گئے ہیں۔

گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار جبکہ سندھ کی دونوں سیٹوں پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔

اگر چہ ان تینوں کامیاب امیدواروں کو اپنی جماعتوں کے علاوہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی مگر سندھ کی نشستوں پر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے بھی تحریک انصاف کی حمایت کی۔ اسی طرح بلوچستان کی حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی پشین کی نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کی۔

تحریک انصاف کیلئے تشویشناک امر یہ ہر گز نہیں کہ وہ تینوں سیٹیں ہار گئی ہے کیوں کہ یہ تینوں سیٹیں وہ عام انتخابات میں بھی ہارگئی تھی۔ تحریک انصاف کیلئے بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ 2018 کے عام انتخابات کے مقابلے میں اس کے ووٹ میں ڈرامائی کمی جبکہ پیپلز پارٹی کے ووٹوں میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔

سانگھڑ سے پی ایس 43 پر پیپلز پارٹی نے 2018 کے انتخابات میں 44737 ووٹ حاصل کیے تھے۔ گزشتہ روز کے ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 48697 ووٹ ملے ہیں۔ اسی طرح پی ایس 88 ملیر میں 2018 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے میدوار کو 22561 ووٹ ملے تھے جبکہ حالیہ انتخاب میں 24261 ووٹ ملے ہیں۔

تحریک انصاف کے امیدوار کو 2018 میں پی ایس 43 سانگھڑ سے 28488 ووٹ ملے تھے مگر حالیہ انتخاب میں یہ صرف 7173 ووٹ حاصل ہوسکے۔ پی ایس 88 ملیر پر عام انتخابات میں تحریک انصاف کو 16388 ووٹ ملے تھے۔ گزشتہ روز کے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو صرف 4870 ووٹ ملے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube