Sunday, September 26, 2021  | 18 Safar, 1443

ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا، سپریم کورٹ

SAMAA | - Posted: Feb 17, 2021 | Last Updated: 7 months ago
Posted: Feb 17, 2021 | Last Updated: 7 months ago

فوٹو: آن لائن

سپریم کورٹ آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کی قسمت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہاتھ میں ہے، ای سی پی اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ اوپن بیلٹ ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت میں جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ منشیات اور دونمبر کی کمائی ووٹوں کی خریداری میں استعمال ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ انتخابات اوپن بلیٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی عدالت نے کل سماعت مکمل ہونے کا عندیہ دے دیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ملک کی قسمت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ہاتھ میں ہے، ای سی پی اپنی ذمہ داری کو سمجھے، وہ پورے ملک پر حکومت لاتا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ منشیات اور دو نمبر کمائی ووٹوں کی خریداری میں استعمال ہوتی ہے، کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کر نشستیں جیت لے تو سسٹم تباہ ہوجائے گا۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ اليکشن کميشن سينيٹ ميں متناسب نمائندگی کو کیسے یقینی بنائے گا؟، جس جماعت کی سینیٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اُتنی ملنی چاہیں، کسی جماعت کو کم نشستیں ملیں تو ذمہ دار الیکشن کمیشن ہوگا۔

مزید جانیے: الیکشن کمیشن انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرناہی نہیں چاہتا، چیف جسٹس

اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ اسلام آباد میں آج بھی لوگ نوٹوں کے بیگ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں، انہیں صرف انتظار ہے کہ عدالت کہیں اوپن بیلٹ کا حکم نہ دے دے۔

چيف جسٹس نے کہا کہ پیسے دینے والوں کے پاس بھی کوئی سسٹم تو ہوتا ہے کہ بکنے والا ووٹ دے گا یا نہیں؟، الیکشن کمیشن کو معلوم ہے لیکن ہمیں بتا نہیں رہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ منشیات اور دو نمبرکمائی ووٹوں کی خریداری میں استعمال ہوتی ہے، ووٹ ہمیشہ کیلئے خفیہ نہیں رہ سکتا، قیامت تک ووٹ خفیہ رہنا آئین میں ہے نہ ہی عدالتی فیصلوں میں۔

عدالت عظمیٰ میں کیس کی مزید سماعت کل (جمعرات کو) دوپہر 12 بجے ہوگی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube