براڈشیٹ اسکینڈل میں مزید کردار، ملاقاتیں اور کمیشن سامنے آگیا

SAMAA | - Posted: Feb 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 16, 2021 | Last Updated: 2 months ago

شہزاد اکبر کی تردید

براڈ شيٹ کی کہانی میں ایک اور کردار سامنے آگیا۔ کاوے موساوی نے الزام لگایا کہ برطانوی صحافی نے کمیشن کے عوض شہزاد اکبر سے ملاقات کرائی۔ مشیر احتساب شہزاد اکبر نے الزام کی تردید کردی۔ سابق وزیراعظم شاہدخاقان نے نے سوال اٹھایا ہے کہ کیاچیئرمین نیب کو اپنے ادارے میں براڈ شیٹ کی کرپشن نظر نہیں آتی۔

واضح رہے ڈیوڈ روز ڈیلی میل کا وہ ’مشہور زمانہ‘ صحافی ہیں جنہوں نے شہباز شریف پر زلزلہ فنڈ میں خوربرد کا الزام عائد کیا تھا۔ شہباز شریف نے ان کے خلاف لندن میں ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا ہے جس کی کارروائی جاری ہے۔

براڈشیٹ کے سی ای او کاوے موسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈیوڈ روز نے کہا کہ میں آپ کی شہزاد اکبر سے میٹنگ کرا دیتا ہوں۔ میں نے پوچھا تمہیں کیا چاہیے۔ پھر ڈیوڈ نے کہا کہ میرے گھر کا بڑا قرض ہے۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے میں وہ ادا کردوں گا۔ کتنا ہے؟ ڈیوڈ نے کہا کہ تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈز ہیں۔ میں نے کہا کہ مجھے 30 ملین پاؤنڈز ملیں گے اس میں سے کمیشن کے طور پر دے دوں گا۔

مشیر احتساب شہزاد اکبر نے براڈ شیٹ کے سی ای او کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ روز کے ذریعے کاوے موسیٰ سے ملاقات ضرور ہوئی لیکن کمیشن کا نہیں معلوم تھا۔ میرا ان سے ملنے کا مقصد واضح تھا کہ جو ادائیگیاں تھیں، اسے ری نیگوشیٹ کرنا چاہ رہے تھے کہ کسی صورت ہمیں کم پیسے دینے پڑیں۔ ایک نے کہا مارگیج سیٹل کردو۔ دوسرے نے کہا کہ تم مارگیج سیٹل کرادو۔ میرا خیال ہے کہ یہ دونوں آپس میں دیکھ لیں معاملہ ان کا ہے۔

لیکن مسلم لیگ نون شہزاد اکبر کی وضاحت ماننے کو تیار نہیں۔ ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ یہ ہے وہ تصویر یہ ہے وہ گٹھ جوڑ جس سے براڈ شیٹ کا کمیشن مانگا گیا۔ ڈیوڈ روز کو استعمال کرکے حکومتِ پاکستان کی لائبلیٹی نگوشیٹ کی گئی۔

شاہد خاقان عباسی نے کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ کے معاملے میں حساب تو دیں نا عمران خان۔  کیوں ملاقاتیں کر رہے تھے اس آدمی سے۔ چیئرمین نیب سوئے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنے ادارے میں براڈ شیٹ کی کرپشن نظر نہیں آتی۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے انصاف اور احتساب کا یہ دہرا نظام نہیں چل سکتا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube