خصوصی رپورٹ: کراچی کے نوجوان ٹارگٹ کلرز کیسے بنے

SAMAA | - Posted: Feb 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Feb 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

تاریخ دانوں، صحافیوں کے خیالات سنیں

کراچی کے پڑھے لکھے نوجوان ٹارگٹ کلر کیسے بنے۔ کیا چیز تھی جس نے انہیں اپنے کتابیں چھوڑ کر پستول اٹھانے پر مجور کیا۔ کیا بات ہوئی کہ انہوں نے ڈگریوں کے باوجود لوگوں پر تھرڈ ڈگری کیا۔ ایسا کیا ہوا کہ وہ پڑھائی کے لئے ٹارچ چلانے کے بجائے ٹارچل سیل چلانے لگے۔

کراچی میں 80 فیصد آبادی پڑھی لکھی ہوا کرتی تھی۔ ہر طرف سکون تھا، علم و آدب کی محفلیں ہوتی تھیں، غیرملکیوں کی بڑی تعداد یہاں بازاروں میں خریداری کرتی نظر آتی تھی، سو سے زائد سنیما میں فلمز دیکھنے والوں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں۔ تاریخ دان عارف حسن، محمود شام اور شکیل عادل زادہ کو اب بھی پرانا کراچی گلی گلی یاد ہے۔

شکیل عادل زادہ کا کہنا ہے کہ بہت خوبصورت شہر تھا، بڑا پرسکون۔ اچھا عجب بات ہے، بہت دلچسپ بات ہے کہ یہاں موسم جو تھا وہ بھی بڑا نرم تھا یعنی یہاں اتنی گرمی نہیں پڑتی تھی۔

عارف حسن نے بتایا کہ کراچی ایلیٹ کا شہر تھا۔غریبوں کا شہر تو نہیں تھا لیکن غریب بہت رہتے تھے۔ سینیما بہت تھے کراچی میں 1978 سے 1979 تک کوئی 136 سینیما تھے۔

لیکن ذہن میں ایک سوال آتا ہے کہ کراچی کے ساتھ کیا ہوا۔ اس شہر کے لئے اسلحہ کبھی بھی نیا نہیں رہا۔ سال 1968 کے بعد سے تعلیمی اداروں میں بھی گن کلچر اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ جامعہ کراچی میں پہلے ہی سے طلباٗ تنظیمیں اسلحہ کو اپنی طاقت سمجھتی تھیں۔

پھر11 جون 1978 کو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن بنی۔ اب وقت بدلا اور طاقت اے پی ایم ایس کو مل گئی۔ 40 سال سے صحافت سے وابستہ خورشید تنویر صاحب بھی اس وقت جامعہ کے طالب علم تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبا جو کراچی یونیورسٹی میں تھی، اس نے اس سے پہلے بھی بہت ساری بدمعاشیاں کی ہیں۔ جب ایم کیو ایم آئی یا اے پی ایم ایس او آئی تو یہ سارے معاملات اس سے کہیں ذیادہ آگے بڑھ گئے تھے۔

یہ وہ وقت تھا جب جامعہ کراچی میں اسلحہ بوریوں میں بھر کر آتا تھا۔ ان واقعات کے عینی شاہد سینئر صحافی عامر ضیا بھی ہیں۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ جامعات کے اندر ترقی پسند یا جمہوریت پسند آوازوں کو نیوٹرائلاز کرنے کے لئے جمعیت بہت مضبوط ہوکر سامنے آئی تھی۔ میری آنکھوں دیکھی بات ہے کہ بوریوں میں بھر پر اسلحہ آیا کرتا تھا اور جامعہ کراچی کی مسجد کو استعمال کیا جاتا تھا اسلحہ جمع کرنے کے لئے۔ گولیاں چلتی تھیں، پوری پوری رات چلتی تھیں۔ ۔جیسے جیسے شہر کی سیاست بدلی اور نئی پاور یہاں آنے لگیں تو ظاہر ہے ایم کیو ایم کا عروج تھا تو ایم کیو ایم کے پاس ذیادہ مسل پاور آیا۔ میں سمجھتا ہوں کراچی میں اسلحہ کی سیاست تعلیممی اداروں میں بھی اور باہر بھی جس پارٹی کا جتنا قد کاٹ تھا اس کے حساب سے انھوں نے استعمال کیا۔

اے پی ایم ایس او کا پودا جلد درخت بنا اور 18 مارچ 1984 مہاجر قومی موومنٹ بنی۔ شہر میں سیکٹرز اور یونٹ آفسز کھولے گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب شہر بدل رہا تھا۔ اب قانون سب کے لئے برابرنہیں تھا۔

سینئر صحافی خورشید تنویر کا کہنا ہے کہ دنیا میں کہیں سنا ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا سیکٹر انچارج ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے یونین اور یونین کونسل ہوتے ہیں۔ سیکٹر انچارج تو نہیں ہوتا۔

عارف حسن کا کہنا ہے کہ بے ایمانی پہلے ہی رائج تھی مگر انھوں اس کو عام کردیا تھا۔ ریوالور رکھو میز پر اور امتحان دے دو۔ انویجلیٹر اگر کچھ بولے تو اس کو گولی مارنے کی دھمکی دو۔

ایک سابق یونٹ انچارج نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکٹرز اور یونٹ آفسز میں نوجوانوں کے لئے ہفتہ وار کلاسز ہوا کرتی تھیں جن میں لڑکوں کے جذبات کو ابھارا جاتا تھا۔ ویڈیوز اور تحریری مواد دکھاکر یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ بہت ذیادتی ہورہی ہے۔

پھر شہر میں ترتیب سے ہونے والے واقعات بشرٰی زیدی ٹریفک حادثہ، اورنگی ٹاون، سہراب گوٹھ اور حیدرآباد کے فسادات کے بعد نوجوانوں کو مزید منفی سوچ کی جانب راغب کیا گیا۔

عارف حسن کا خیال ہے کہ جو نسلی جھگڑے تھے اور جس طرح انہیں کنڈکٹ کیا گیا ہے، قتل و غارت کے ذریعے، دھمکانے سے، جان سے مارنے سے، بم پھاڑنے سے، ہڑتال کرنے سے، اس نے کراچی کو تباہ کیا۔ اس نے کراچی کے نوجوان کو جاہل بنایا۔ ان کے دلوں میں نفرت بٹھائی وہ بھی جھوٹ کی بنیاد پر۔

بزرگ صحافی محمود شام کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو اللہ تعالیٰ نے بہت موقع دیا تھا۔ وہ بلاشرکت غیر یہاں کے بے تاج بادشاہ تھے۔ طاقت یہ سجھی گئی کہ یہ بیرل آف گن سے نکلتی ہے، پڑھائی اور وعقل سے نہیں ملتی۔ پھر یہ جو مظاہرہ ہوا ہے اور اصول یہ ہے تاریخ کا کہ تشدد کے نتیجے میں مزید تشدد فروغ پاتا ہے۔

ماضی میں اسی تنظیم سے وابستہ افراد کہتے ہیں کہ سال 2000 کے بعد سے رہنما عوام اور کارکنان کی بہتری کا سوچنے کے بجائے پیسے جمع کرنے کی سیاست میں لگ گئے تھے۔

ایم کیو ایم کے ایک سابق کارکن کا کہنا ہے کہ سیکٹر یونٹ میں صرف پیسوں کا کھیل ہوا تھا۔ یونٹ سیکٹر سے حساب کتاب میں چل رہا تھا۔ سیکٹر کے ٹی سی سے حساب کتاب میں چل رہا تھا۔ کے ٹی سی مرکز سے حساب کتاب میں چل رہی تھی۔ ایک بندر بانٹ تھی، کون سا پلاٹ کس کو دینا ہے۔ کہاں سے نوٹ آئیں گے۔ بس یہ ساری چیزیں تھیں۔

لیکن ایم کیو ایم کو کہیں کرپشن نظر ہی نہیں آتی۔ سینئر رہنما امین الحق کا کہنا ہے کہ صرف ایک فیصد کارکن بھٹک گئے تھے مگر یہ پارٹی کی پالیسی نہیں تھی۔

ایم کیو ایم ورکر محمد سلمان نے بھی اس تنظیم کو 25 سال دیئے لیکن بدلے میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ والد اور والدہ کا انتقال ہوا۔ دو جوان بھائی مارے گئے۔ یہ دیا ہے ایم کیوایم نے ہمیں۔ پڑھنا تھا ہمیں۔ پڑھائی اپنی چالو رکھنی تھی ہمیں۔۔ مگر ان لوگوں نے کرنے نہیں دی۔ کہا کیا کروگے پڑھ کر۔ اسلحہ دے دیا ہاتھ میں، اس کے ساتھ یہ کردو اس کے ساتھ وہ کردو۔ بس یہ کروایا۔ ورنہ میرا بھائی ہارڈوئیر انجینئر تھا۔ توہم کیا جاہل رہتے۔

سندھ میڈیکل کالج کا ڈاکٹر محمود صدیقی جو نہ صرف بھارت میں مقیم ہے بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اشاروں پر کراچی میں دہشت گردی کررہا ہے۔ یہ بھی سال 1996 میں اے پی ایم ایس او کے چیرمین تھا۔

بانی ایم کیو ایم کا وہ بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انھوں نے نوجوانوں کو اسلحہ خریدنے کی ترغیب دی اور لڑکوں کو قلم و کتاب کی بجائے اسلحہ کے زور پر اپنے مسائل حل کرنے اور خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کا کہا۔

دل اتنا کھل گیا کہ کراچی چھوڑیں لندن میں بھی قتل کا منصوبہ بنایا لیکن وہاں قدم قدم پر لگے کیمروں نے ملزمان کو گرفتار کروایا۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں بھی ملوث نوجوان پڑھے لکھے تھے۔ محسن علی اور کاشف خان گریجوئیٹ تھے اور انہیں لندن کی جامعہ میں اسی غرض سے داخلہ دلوایا گیا کہ وہ وہاں جا کر ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرسکیں۔

تاریخ دان کہتے ہیں اردو بولنے والوں کی نمائندہ جماعت بننے والی ایم کیو ایم نےاپنی منفی سیاست سے بہت نقصان پہنچایا۔

خورشید تنویر کا کہنا ہے کہ اردو بولنے والوں کی دو نسلوں کو تباہ کردیا گیا۔ اردو بولنے والے تعلیم کے زیور سے آراستہ تھے۔ پہلے انھوں نے سسٹمیٹکلی پنجابیوں سے جھگڑا کیا۔ اس کے بعد بلوچوں کے ساتھ اور پھر پشتونوں کے ساتھ جھگڑا کیا۔ اور پھر جہاں ہم رہتے ہیں، جہاں ہماری نسل کو رہنا ہے، دفن ہونا ہے یعنی سندھیوں کے ساتھ جھگڑا کیا۔ یہ تمام کی تمام چیزیں ہیں۔ اس کا نتجہ یہ ہوا کہ ہماری آنے والی نسلیں جن کی عمر اب 35 سے 40 سال ہے وہ اس کو بھگت رہے ہیں۔ ان کے لئے سندھ حکومت میں کوئی سرکاری ملازمت نہیں ہے۔

عارف حسن کا کہنا ہے کہ مہاجر نہ فوج میں، نہ بیوروکریسی میں، نہ پالیسی میکنگ میں۔ وہ دکاندار ہوگیا ہے۔ نیچے دکان اوپر اس کا گھر ہے۔ اس کے بچے ان پڑھ ہورہے ہیں۔

اب کراچی کا یہ حال ہے کہ تاریخ دان بھی اس شہر کو نہیں پہچانتے۔ شکیل عادل زادہ کا کہنا ہے کہ رفتہ رفتہ معلوم ہوا یہ ہمارا شہر نہیں ہے۔ ہم کسی اور شہر میں آئے تھے۔ یہ دوسرا شہر ہے۔

جو اس شہر کی مسیحائی کے دعوے کیا کرتے تھے وہ اس میں رہنے والوں کو کئی دہائی پیچھے چھوڑ گئے۔ مگر اب بھی کھنڈر بتارہے ہیں کہ عمارت عظیم تھی۔

WhatsApp FaceBook

One Comment

  1. عبدالسلام  February 17, 2021 12:01 am/ Reply

    ٹھیک تبصرہ ھے

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube