Thursday, September 16, 2021  | 8 Safar, 1443

ویڈیواسکینڈل کی تحقیقات:وزارتِ انسانی حقوق کادفترکمیٹی سیکرٹریٹ ہوگا

SAMAA | - Posted: Feb 13, 2021 | Last Updated: 7 months ago
SAMAA |
Posted: Feb 13, 2021 | Last Updated: 7 months ago

سینیٹ انتخابات سے متعلق ویڈیواسکینڈل کی تحقیقات کیلئےقائم وزراء کمیٹی کے پہلے اجلاس میں وزارتِ انسانی حقوق کےدفتر کوکمیٹی سیکرٹریٹ بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ویڈیو منظرعام پر لانے والے صحافی کو بھی بلایا جائےگا۔

اسلام آباد میں ہفتےکوسینیٹ انتخابات ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔اجلاس میں فواد چوہدری،شیریں مزاری اور شہزاد اکبر شریک ہوئے۔اجلاس میں کمیٹی کےٹرمزآف ریفرنس طےکرلیےگئے۔کمیٹی نےواقعے سےمتعلق معلومات رکھنے والوں کی مدد لینے کا بھی فیصلہ کیا۔ایسے افراد تحریری طورپریا کمیٹی کے سامنے پیش ہوکرمعلومات دے سکیں گے۔

کمیٹی ایک ماہ کےاندراپنی رپورٹ وزیراعظم کوپیش کرےگی جس کےنتیجے میں ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ ہوگاالیکشن کمیشن سےرجوع کرنے کےساتھ فوجداری مقدمات بھی درج ہوسکیں گے۔

ویڈیواسکینڈل کی تحقيقات کےليے پی ٹی آئی کی کمیٹی قائم

فواد چوہدری نےکہا ہےکہ ووٹ خریدنےوالوں کےخلاف بھی کارروائی ہوگی اورآرٹیکل 63 کےعلاوہ کرمینل کارروائی بھی کی جائے گی۔پولیس،ایف آئی اے اورنیب بھی ان لوگوں کےخلاف ایکشن لے گا۔

چاردن قبل اے آروائی نیوز نے ایک ویڈیو نشر کی تھی جس میں دیکھا جاسکتا ہے تحریک انصاف کے سابق ارکان اسمبلی بیگوں میں نوٹوں کی گڈیاں بھر رہے ہیں۔ ان ارکان پر 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے کا الزام ہے۔

ویڈیو میں نظر آنے والے ایک سابق ایم پی اےعبیداللہ مایار نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف نے دوسری پارٹیوں سےلوگوں کوبلاکربھاری رقم کےعوض انہیں سینیٹ کے ٹکٹ دیے۔ پھر وہی رقم پرویز خٹک کے کہنے پر اسپیکر ہاؤس میں ارکان اسمبلی کو دی گئی اوراس کی ویڈیو بھی بنائی گئی۔

پرویزخٹک کےکہنےپرووٹ فروخت کیا،ارکان کااعتراف

 سماء ٹی وی کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے ویڈیومیں نظر آنے والے عبیداللہ مایار نے کہا کہ یہ ویڈیو بالکل ٹھیک ہے مگر پیسوں کی تعداد غلط بتائی گئی۔ اس میں ہر ایم پی اے کو ایک کروڑ روپے دیے گئے۔ یہ حکومت کے پیسے تھے اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے کہنے پر اسپیکر ہاؤس میں تقسیم کیے گئے۔

پرویز خٹک کاعبیداللہ مایارکےالزامات پرردعمل

وزيردفاع پرويز خٹک نے عبيداللہ مايار کے الزامات مسترد کرتےہوئے کہا کہ مجھےتوکچھ پتہ ہی نہيں،سارا معاملہ محمد علی شاہ کے ذريعے طے ہوا، وہی شناخت کر رہے تھے،ميں نےکسی کو رقم دينےکونہيں کہا اور نہ ہی لينے کی ہدايت دی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube