جسٹس فائزعیسیٰ کووزیراعظم سے متعلق کیسزنہیں سننے چاہئیں، سپریم کورٹ

SAMAA | - Posted: Feb 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Feb 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فوٹو: ایس سی پی ویب سائٹ

سپریم کورٹ نے وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ جس ميں کہا گيا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کو وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہیں سننے چاہئيں۔

سپریم کورٹ میں وزیراعظم ترقیاتی فنڈز کیس کی سماعت ہوئی، عدالت عظمیٰ کے 5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سینیٹ الیکشن سے قبل عوامی فنڈز پارلیمنٹیرینز میں تقسیم کرنے کی تردید پر کیس نمٹاتے ہوئے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کیخلاف ایک مقدمہ دائر کر رکھا ہے، اس لئے انہیں وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہیں سننے چاہیئں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں جسٹس فائز عیسیٰ سے کہا ہے کہ انصاف کے تقاضوں اور غیر جانبداری کے پیش نظر وزیراعظم سے متعلق مقدمات نہ سنیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے جوابات کے بعد کیس کی مزید کارروائی کی گنجائش نہیں، دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت کو اٹارنی جنرل کو بعض دستاویزات دیں، جسٹس فائز کو دستاویزات واٹس ایپ پر نامعلوم ذرائع سے ملیں، انہیں دستاویزات کے درست ہونے کا خود بھی علم نہیں تھا۔

سپريم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی جانب سے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے دستخط سے جاری تحریری یقین دہانی جمع کرائی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت آئین کے برخلاف کسی بھی رکن اسمبلی کو فنڈز جاری نہیں کررہی۔ جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے وزيراعظم کو ترقياتی فنڈز دينے کے معاملے پر کلين چٹ دے دی تھی۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube